صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 1
صحيح البخاری جلد ۲ بالله الحالي ١٠ - كتاب الأذان ١٠ - كِتَابُ الْأَذَانِ 0000000000 بَاب ۱ : بَدْءُ الْأَذَانِ اذان کی ابتداء وَقَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَإِذَا نَادَيْتُمْ إِلَى اور الله عز وجل کا فرمانا: وَإِذَا نَادَيْتُمُ إِلَى الصَّلوةِ الصَّلَاةِ اتَّخَذُوهَا هُزُوًا وَلَعِبًا ذَلِكَ یعنی جب تم نماز کی طرف بلاتے ہو تو وہ اسے بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَا يَعْقِلُونَ (المائدة: ٥٩) نہی اور کھیل سمجھتے ہیں۔ اس لئے کہ یہ وہ لوگ ہیں وَقَوْلُهُ: إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِنْ يَوْمِ جنہیں عقل نہیں ۔ اور اس کا فرمانا: کا فرمانا: إِذَا نُودِيَ لِلصَّلوةِ الْجُمُعَةِ۔ (الجمعة: ١٠) جب جمعہ کے دن کے ایک حصہ میں نماز کے لیے بلایا جائے ۔ ٦٠٣: حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ ۶۰۳ : عمران بن میسرہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عبد الوارث نے ہمیں بتایا کہ خالد حذاء نے ہم سے الْحَدَّاءُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ : بیان کیا۔ انہوں نے ابوقلابہ سے، ابوقلابہ نے ذَكَرُوا النَّارَ وَالنَّاقُوْسَ فَذَكَرُوا حضرت انس سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا: لوگوں الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى، فَأُمِرَ بِلَالٌ أَنْ نے آگ اور ناقوس کا ذکر کیا اور یہود و نصاری کا۔ پھر حضرت بلال کو حکم دیا گیا کہ اذان دیں ( الفاظ يَشْفَعَ الْأَذَانَ وَأَنْ يُوْتِرَ الْإِقَامَةَ۔ اذان ) دو دفعہ کہیں اور اقامت (میں ) ایک ہی دفعہ۔ اطرافه : ٦٠٥، ٦٠٦، ٦٠٧، ٣٤٥٧۔ ٦٠٤: حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ :۶۰۴: محمود بن غیلان نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا عبد الرزاق نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابن جریج نے ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ أَنَّ ابْنَ ہمیں بتایا۔ کہا: نافع نے مجھے بتایا: حضرت ابن عمر