صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 162 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 162

صحيح البخاری جلد ۲ بِاضْطِرَابِ لِحْيَتِهِ۔اطرافه: ٧٤٦، ٠٧٧٧،٧٦١ ١٠ - كتاب الأذان ہاں۔ہم نے کہا: آپ لوگوں کو کیسے معلوم ہوتا تھا؟ کہا : حضور کی ریش مبارک کے ملنے سے۔تشریح: الْقِرَاءَةُ فِي الظُّهْرِ : باب نمبر ۹۶ سے باب نمبر ۱۰۴ تک پانچ نمازوں میں قرآن مجید پڑھنے سے متعلق روایتیں پیش کی گئی ہیں اور سابقہ باب کے مضمون پر بالتفصیل بحث ہے۔چنانچہ پانچویں نماز صبح سے متعلق بھی باب ۱۰۵،۱۰۴ جو قائم کئے ہیں ان میں سورۃ فاتحہ اور قرآن مجید پڑھنے یا نہ پڑھنے کا سوال روایا اور در ایتا حل کر کے یہ مضمون اس طرح ختم کیا ہے کہ پہلے ایسی مستند روایتیں پیش کی ہیں ، جن سے بالوضاحت ثابت ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر وعصر میں بھی اور مغرب و عشاء اور صبح میں بھی قرآن مجید پڑھا کرتے تھے۔ظہر اور عصر سے متعلق صحابہ کا صرف قیاس ہی نہیں پیش کیا بلکہ ان کی سماعی شہادت بھی ان الفاظ میں پیش کی ہے: وَيُسْمِعُ الآيَةَ أَحْيَانًا ظہر میں بھی اور عصر میں بھی۔(دیکھئے روایت نمبر ۷۶۲۷۵۹) اور باقی نمازوں میں قرآن مجید پڑھنے سے متعلق تو کوئی شبہ ہی نہیں۔یہ متواتر شہادتیں پیش کرنے کے بعد آخر میں روایت نمبر ۷۷۴ حضرت ابن عباس کی شاذ اور مجمل روایت پیش کر کے ان کے اپنے ہی الفاظ میں مضمون ختم کیا ہے۔لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ - (الاحزاب:۲۲) یعنی اس بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل درآمد واضح ہے اور مختلف شہادتوں سے ثابت ہے کہ آپ سورہ فاتحہ اور اس کے علاوہ (مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ ) اور سورتیں بھی پڑھتے تھے۔حضرت ابن عباس کی روایت سے زیادہ سے زیادہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ بعض نمازوں میں خاموش رہتے تھے۔محض خاموشی سے استدلال نہیں کیا جا سکتا کہ آپ کچھ بھی نہ پڑھتے تھے۔اس کے مقابل میں دس سے زیادہ وہ مستند روایتیں ہیں جن سے آپ کے پڑھنے کی بابت شہادت ملتی ہے۔پس جو بات ثابت شدہ ہے اس کو اس روایت پر ترجیح دی جائے گی۔جس میں نفی کا پہلو کمزور ہو۔یہ وہ حل ہے جو امام موصوف نے ان ابواب میں پیش کیا ہے۔دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ آیا آخری رکعتوں میں بھی آپ قرآن پڑھا کرتے تھے؟ روایت نمبر ۷۵۸ میں حضرت سعد بن ابی وقاص کی شہادت دوبارہ پیش کی ہے۔اخذفَ فِي الْأُخْرَيَيْنِ سے مراد قرآت ترک کرنا نہیں بلکہ اختصار کرنا ہے۔روایت نمبر ۷۵۵ کے الفاظ یہ ہیں: اَخِفُ فِی الْأُخْرَيَيْنِ یعنی میں آخری رکعتیں ہلکی پڑھتا ہوں۔اس سے ثابت ہوا کہ ان میں آپ خاموش نہیں کھڑے رہتے تھے بلکہ پڑھتے تھے۔یہ سوال کہ آپ کیا پڑھتے تھے ؟ اس کا جواب حضرت ابو ہریرہ کی روایات نمبر ۷۲ے والے لے میں ہے۔یعنی آپ آخری رکعتوں میں سورہ فاتحہ پڑھتے تھے۔یہی مذہب امام مالک اور جمہور کا ہے، جو امام بخاری نے بھی اختیار کیا ہے۔روایت نمبر ۷۷۰۷۵۸،۷۵۵ میں حضرت سعد بن ابی وقاص کے الفاظ اخف یا حذف سے تو یہ تعین نہیں ہوتی کہ آپ آخری رکعتیں کتنی ہلکی پڑھتے تھے۔مگر روایت نمبر ۶ے سے میں اس کی تعیین ہے کہ آپ صرف سورہ فاتحہ پڑھتے تھے۔