صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 160 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 160

صحيح البخاری جلد ۲ ۱۶۰ ١٠ - كتاب الأذان ہو۔اس کے پڑھنے سے نماز ہو جائے گی۔ان کی رائے ہے کہ سورہ فاتحہ کے پڑھنے کے متعلق آپ کا جو ارشاد حدیث نمبر ۷۵۶ میں مندرج ہے۔اس سے یہ استدلال نہیں کیا جاسکتا کہ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ پڑھنی ضروری ہے، بلکہ اگر صرف ایک رکعت میں سورہ فاتحہ پڑھ لی جائے تو آپ کے ارشاد کی تعمیل ہو جائے گی۔چنانچہ ان کے نزدیک آخری رکعتوں میں اگر کوئی سورہ فاتحہ وغیرہ نہ پڑھے اور صرف تسبیح وتحمید پر اکتفا کرے تو اس کی نماز ہو جائے گی۔(بداية المجتهد) یعنی جہاں تک فرض کا تعلق ہے فریضہ نماز ادا سمجھا جائے گا۔وہ سورہ فاتحہ کی ہر رکعت میں پڑھے جانے کی بابت صرف سنت سے استدلال کرتے ہیں نہ کسی حکم کی اتباع پر۔اس لئے ان کے نزدیک اس کا پڑھنا واجب ہے نہ کہ فرض۔غرض یہ فقہی اختلاف مد نظر رکھ کر مذکورہ بالا باب قائم کیا گیا ہے اور اس مسئلہ میں امام بخاری کا حتمی فیصلہ یہ ہے کہ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ پڑھنی فرض ہے۔چنانچہ انہوں نے تین روایتوں سے تین استدلال کئے ہیں۔چار رکعتوں میں پڑھنے کی نسبت روایت نمبر ۷۵۵ سے استدلال کیا گیا ہے۔فَارُكُدْ فِي الْأَوْلَيَيْنِ وَاخِفٌ فِي الْأُخْرَيَيْنِ لمبی اور ہلکی رکعتیں پڑھنے سے مراد قرآت ہی کا چھوٹا لمبا ہونا ہے۔دیکھئے روایت نمبر ۷۵۹،۷۵۸۔حضرت سعد بن ابی وقاص پر یہ اعتراض بھی کیا جاتا تھا کہ وہ دو رکعتیں لمبی پڑھتے ہیں اور باقی دو چھوٹی۔گویا اعتراض کرنے والوں کے نزدیک رکعتوں میں یہ تفاوت جائز نہ تھا۔حضرت عمرؓ نے کوفہ والوں کی شکایت سے متعلق تحقیق کرنے کے لئے حضرت محمد بن مسلمہ کو بھیجا۔جو عمال یعنی والیان علاقہ جات کے افسر تھے۔(فتح الباری جزء ثانی صفحه ۳۱۰) (تفصیل کے لئے دیکھئے طبری جز ۵ صفحه ۳۶۰۷ مطبوعہ مصر ۲۱ھ) غرض اس روایت سے ہر رکعت میں قرآت کے بارے میں استنباط کیا گیا ہے۔لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَّمْ يَقْرَءُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ : دوسری روایت سے یہ استدلال کیا ہے کہ سورہ فاتحہ کے بغیر کوئی نماز نہیں۔ایک رکعت بھی نماز ہے جیسا کہ وتر۔پس جو رکعت بھی سورہ فاتحہ سے خالی ہوگی وہ نماز نہیں کہلا سکتی۔اس روایت سے امام شافعی اور امام مالک کے مذہب کی تائید ہوتی ہے جو درست ہے۔تیسری روایت نمبر۷۵۷ وہ روایت ہے جس کی وجہ سے اختلاف پیدا ہوا ہے۔اقْرَأْ مَاتَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرآن : بیدار شادا اپنے اندر عمومیت رکھتا ہے اور سابقہ حدیث اور یہ حدیث دونوں کو پہلو بہ پہلو رکھ کر اگر غور کیا جائے تو صاف واضح ہو جائے گا کہ یہ روایت آپس میں مخالف نہیں بلکہ خصوص وعموم کی نسبت رکھتی ہیں۔ایک میں سورہ فاتحہ سے متعلق تخصیص ہے۔یعنی اس کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔کم از کم عبادت جس پر لفظ صلوة اطلاق پا سکتا ہے، ایک رکعت ہے اور دوسری روایت میں عمومیت ہے۔یعنی سورہ فاتحہ کا پڑھنا تو فرض اور نماز کی تعمیل کے لئے شرط ہے اور اس کے علاوہ قرآن مجید سے جو یاد ہو پڑھے۔چونکہ کسی مستند روایت سے معلوم نہیں ہوتا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر و حضر یا امام و مقتدی سے متعلق کوئی تخصیص فرمائی ہو، اس لئے امام بخاری نے عنوان باب میں امام و مقتدی دونوں کی قرآت کا ذکر کیا ہے۔مطلق حکم کو مقید کرنے کے لئے کوئی وجہ ہونی چاہیے۔اگلے آٹھ بابوں میں امام موصوف نے اسی مسئلہ قرآت کے بارے میں مفصل بحث کی ہے۔