صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 159
صحيح البخاری جلد ۲ ۱۵۹ ١٠ - كتاب الأذان صَلَاتِكَ كُلّها۔قَائِمًا ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ثُمَّ مجھے سکھائیں۔آپ نے فرمایا: جب نماز کے لئے ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا وَافْعَلْ ذَلِكَ کھڑے ہو تو اللہ اکبر کہو۔پھر قرآن میں سے جو میسر ہو، پڑھو۔پھر رکوع کرو۔یہاں تک کہ رکوع میں تمہیں اطمینان ہو جائے۔پھر سر اٹھاؤ۔یہاں تک کہ اطمینان سے کھڑے ہو جاؤ۔پھر سجدہ کرو۔یہاں تک کہ سجدہ میں تمہیں اطمینان ہو جائے۔پھر سر اٹھاؤ۔یہاں تک کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ۔الغرض اطرافه ٧٩٣، ٦٢٥١ ٠٦٢٥٢، ٦٦٦٧ اپنی ساری نماز میں اسی طرح کرو۔( :٧٥٨ حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ :۷۵۸ ابو نعمان نے ہم سے بیان کیا ، کہا : ) حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بن ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عبدالملک بن عمیر عُمَيْرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ قَالَ سے ، عبدالملک نے حضرت جابر بن سمرہ سے روایت سَعْدٌ كُنْتُ أُصَلَّى بَهُمْ صَلَاةَ رَسُولِ کی۔انہوں نے کہا: حضرت سعد کہتے تھے : میں انہیں اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَي رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی طرح ہی ظہر اور الْعَشِيِّ لَا أَخْرِمُ عَنْهَا أَرْكُدُ فِي عصر کی نماز پڑھایا کرتا تھا۔میں آپ کی نماز سے ذرہ بھی فرق نہیں کرتا تھا۔پہلی دو رکعتوں کو لمبی کرتا الْأُولَيَيْنِ وَأَحْذِفَ فِي الْأَحْرَيَيْنِ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ذَلِكَ الظَّنُّ بِكَ۔اطرافه ٧٥٥، ۷۷۰ اور پچھلی دو رکعتوں کو ملکی۔تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میرا آپ کے متعلق یہی خیال ہے۔تشریح : وُجُوبُ الْقِرَاءَةِ : یہ مسئلہ بھی اختلافی ہے۔امام مالک کے نزدیک پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ انے اور اس کے علاوہ قرآن مجید سے جو میسر ہو پڑھا جائے اور باقی ایک دورکعتوں میں صرف سورہ فاتحہ۔امام شافعی کے نزدیک ان میں بھی سورہ فاتحہ کے علاوہ قرآن مجید پڑھا جائے۔امام ابو حنیفہ کے نزدیک آپ کا ارشاد اِقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ اپنے مفہوم میں مطلق ہے۔یعنی سورہ فاتحہ کے ساتھ مقید نہیں۔قرآن مجید میں سے جو بھی یاد صَلَاةَ الْعَشِيِّ : زوال شمس سے غروب شمس تک کا وقت عَشِي کہلاتا ہے۔(لسان العرب تحت لفظ عشي) بعض شارحین نے اس جگہ لفظ عشی سے ظہر اور عصر کی نمازیں مراد لی ہیں۔(فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۳۰۹)