صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 158 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 158

صحيح البخاری جلد ۲ ۱۵۸ ١٠ - كتاب الأذان ٧٥٦ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ قَالَ :۷۵۶ علی بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا ، کہا : ހ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ سفیان نے ہم سے بیان کیا، کہا: زُہری نے ہمیں عَنْ مَّحْمُودِ بْن الرَّبِيعِ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ بتایا۔انہوں نے حضرت محمود بن ربیع سے، حضرت الصَّامِتِ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ محمود نے حضرت عبادہ بن صامت سے روایت کی کہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَّمْ يَقْرَأَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کی نماز بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ۔نہیں جس نے سورہ فاتحہ نہ پڑھی۔٧٥٧: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ :۷۵۷ محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا ، کہا بھی حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي نے ہمیں بتایا کہ عبید اللہ سے مروی ہے۔انہوں نے سَعِيْدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ أَبِي کہا: سعيد بن ابی سعید نے مجھے بتایا۔انہوں نے هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابو ہریرہ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَدَخَلَ رَجُلٌ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں فَصَلَّى فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى الله تشریف لائے۔اتنے میں ایک شخص آیا اور اس نے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَدَّ وَقَالَ اَرْجِعْ فَصَلَ نماز پڑھی۔پھر اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلٍ فَرَجَعَ يُصَلِّي كَمَا صَلَّى کیا۔آپ نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: واپس جاؤ ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى الله اور نماز پڑھو۔کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔چنانچہ وہ لوٹ گیا۔پھر اس نے اسی طرح ہی نماز پڑھی جس عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ارْجِعْ فَصَلَّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ ثَلَاثًا فَقَالَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا۔آپ نے فرمایا: واپس جاؤ مَا أُحْسِنُ غَيْرَهُ فَعَلَّمْنِي فَقَالَ إِذَا قُمْتَ اور نماز پڑھو۔کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔آپ نے إِلَى الصَّلَاةِ فَكَبَرْ ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ تین بار ایسا ہی فرمایا۔اس نے کہا: اس ذات کی قسم مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى ہے جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے۔تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْدِلَ میں اس سے اچھی نماز نہیں پڑھ سکتا۔اس لئے آپ طرح (پہلے) پڑھی تھی۔پھر وہ آیا اور اس نے نبی صلی