صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 157 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 157

صحيح البخاری جلد ۲ ۱۵۷ ١٠ - كتاب الأذان سَأَلَ عَنْهُ وَيُثْنُوْنَ عَلَيْهِ } مَعْرُوفًا کے بارے میں کوفہ والوں سے پوچھیں۔انہوں نے حَتَّى دَخَلَ مَسْجِدًا لَبَنِي عَبْس فَقَامَ کوئی مسجد بھی نہ چھوڑی جہاں حضرت سعد کے متعلق رَجُلٌ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ أَسَامَةُ بْنُ قَتَادَةَ نہ پوچھا ہو اور لوگ ( ان کی *) اچھی تعریف کرتے يُكْنَى أَبَا سَعْدَةَ قَالَ أَمَّا إِذْ نَشَدَتَنَا فَإِنَّ تھے۔آخر وہ قبیلہ بنی عبس کی مسجد میں گئے۔ان میں سَعْدًا كَانَ لَا يَسِيرُ بالسَّرِيَّةِ وَلَا يَقْسِمُ سے ایک آدمی کھڑا ہوا۔اسے اسامہ بن قتادہ کہتے بِالسَّوِيَّةِ وَلَا يَعْدِلُ فِي الْقَضِيَّةِ قَالَ تھے اور ابوسعدہ اس کی کنیت تھی۔اس نے کہا: چونکہ تم سَعْدٌ أَمَا وَاللَّهِ لَأَدْعُوَنَّ بِثَلَاثِ اللَّهُمَّ نے ہمیں قسم دی ہے۔اس لئے اصل بات یہ ہے کہ إِنْ كَانَ عَبْدُكَ هَذَا كَاذِبًا قَامَ رِيَاءً سعد فوج کے ساتھ نہیں جایا کرتے تھے اور نہ برابر وَسُمْعَةً فَأَطِلْ عُمْرَهُ وَأَطِلْ فَقْرَهُ تقسیم کرتے تھے اور نہ فیصلہ میں انصاف کرتے وَعَرِضَهُ بِالْفِتَنِ وَكَانَ بَعْدُ إِذَا سُئِلَ تھے۔حضرت سعد نے کہا: دیکھو اللہ کی قسم! میں تین يَقُوْلُ شَيْخٌ كَبِيرٌ مَفْتُونَ أَصَابَتْني دعائیں کرتا ہوں۔اے میرے اللہ ! اگر تیرا یہ بندہ دَعْوَةُ سَعْدٍ قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ فَأَنَا رَأَيْتُهُ جھوٹا ہے اور ریاء اور شہرت کی غرض سے کھڑا ہوا ہے تو بَعْدُ قَدْ سَقَطَ حَاجِبَاهُ عَلَى عَيْنَيْهِ مِنَ اس کی عمر لمبی کر اور اس کی محتاجی کو بڑھا اور اسے الْكِبَرِ وَإِنَّهُ لَيَتَعَرَّضُ لِلْجَوَارِي في مصيبتوں کا تختہ مشق بنا۔اس کے بعد جب کوئی اس کا حال پوچھتا تو وہ کہتا پیر فرتوت ہوں۔مصیبت زدہ ہوں۔حضرت سعد کی بددعا مجھے لگ گئی۔عبدالملک کہتے تھے: میں نے اس کے بعد اسے دیکھا ہے کہ حالت یہ تھی کہ بڑھاپے کی وجہ سے اس کی بھویں اس کی دونوں آنکھوں پر آپڑی تھیں اور تعجب ہے کہ وہ الطُّرُقِ يَغْمِرُهُنَّ۔اطرافه ٧٥٨، ۷۷۰ راستوں میں چھوکریوں کو چھیڑتا اور چشمک کرتا۔لفظ عليه فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے۔(فتح الباری جزء ثانی حاشیہ صفحہ ۳۰۰۶) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔