صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 156 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 156

صحيح البخاری جلد ۲ ۱۵۶ ١٠ - كتاب الأذان بَاب ٩٥ : وُجُوْبُ الْقِرَاءَةِ لِلْإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ فِي الصَّلَوَاتِ كُلِّهَا فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ تمام نمازوں میں امام اور مقتدی کے لئے قرآن پڑھنا واجب ہے حضر میں بھی اور سفر میں بھی وَمَا يُجْهَرُ فِيْهَا وَمَا يُحَافَتُ اور اُن نمازوں میں بھی جن میں بلند آواز سے پڑھا جائے اور اُن میں بھی جو خاموشی سے پڑھی جائیں۔إِنَّ هَؤُلَاءِ يَزْعُمُونَ أَنَّكَ لَا تُحْسِنُ :٧٥٥ حَدَّثَنَا مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا ۷۵۵ موسیٰ نے ہم سے بیان کیا ، کہا : ابوعوانہ أَبُو عَوَانَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: عبدالملک بن عُمَيْرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ شَكَا عمیر نے ہمیں بتایا کہ حضرت جابر بن سمرہ سے مروی أَهْلُ الْكُوفَةِ سَعْدًا إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ ہے۔وہ کہتے تھے: کوفہ والوں نے حضرت عمر رضی اللہ عَنْهُ فَعَزَلَهُ وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ عَمَّارًا عنہ کے پاس حضرت سعد کی شکایت کی تو انہوں نے فَشَكَوْا حَتَّى ذَكَرُوا أَنَّهُ لَا يُحْسِنُ ان کو معزول کر دیا اور حضرت عمار کو ان کا عامل يُصَلِّي فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَقَالَ يَا أَبَا إِسْحَاقَ (حاکم) مقرر کیا۔کوفہ والوں نے حضرت سعد کے متعلق شکایات میں یہ بھی کہا کہ وہ نماز بھی اچھی طرح نہیں پڑھاتے تو حضرت عمر نے ان کو بلا بھیجا اور کہا: تُصَلِّي قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ أَمَّا أَنَا وَاللَّهِ اے ابواسحاق ! یہ (لوگ) تو کہتے ہیں کہ آپ اچھی فَإِنِّي كُنْتُ أَصَلِّي بِهِمْ صَلَاةَ رَسُولِ طرح نماز بھی نہیں پڑھاتے۔ابواسحاق نے کہا: میں اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَخْرِمُ عَنْهَا تو بخدا انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز پڑھایا أَصَلِّي صَلَاةَ الْعِشَاءِ فَأَرْكُدُ فِي کرتا تھا۔اس میں ذرہ بھی کم نہیں کرتا تھا۔عشاء کی الْأُولَيَيْنِ وَأُخِفُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ قَالَ نماز پڑھاتا تو پہلی دورکعتیں لمبی اور پچھلی دورکعتیں ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ يَا أَبَا إِسْحَاقَ فَأَرْسَلَ ہلکی پڑھتا تھا۔تب حضرت عمر نے کہا: ابواسحاق ! مَعَهُ رَجُلًا أَوْ رِجَالًا إِلَى الْكُوفَةِ فَسَأَلَ آپ کے متعلق یہی خیال تھا۔پھر حضرت عمر نے ان عَنْهُ أَهْلَ الْكُوْفَةِ وَلَمْ يَدَعْ مَسْجِدًا إِلَّا کے ساتھ ایک آدمی یا چند آدمی کوفہ روانہ کئے تا ان