صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 155
صحيح البخاری جلد ۲ ۱۵۵ ١٠ - كتاب الأذان وَسَلَّمَ كَشَفَ سِتْرَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ وَهُمْ صُفُوفٌ فَتَبَسَّمَ کے حجرے کا پردہ اُٹھایا اور ان کی طرف دیکھا۔وہ يَضْحَكُ وَنَكَصَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ صفیں باندھے ہوئے تھے۔آپ مسکرائے اور عَنْهُ عَلَى عَقِبَيْهِ لِيَصِلَ لَهُ الصَّفَّ فَظَنَّ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اُلٹے پاؤں پیچھے ہٹے أَنَّهُ يُرِيْدُ الْحُرُوْجَ وَهَمَّ الْمُسْلِمُوْنَ أَنْ تا آپ کے (آنے کی صورت ) میں وہ صف میں جا يَفْتَتِنُوْا فِي صَلَاتِهِمْ فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَتِمُّوا میں وہ سمجھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم باہر آنا صَلَاتَكُمْ فَأَرْحَى السِّتْرَ وَتُوُفِّيَ مِنْ چاہتے ہیں اور مسلمان دورانِ نماز آزمائش میں پڑنے لگے کہ آپ نے انہیں اشارہ فرمایا کہ اپنی نماز آخِرِ ذَلِكَ الْيَوْمِ۔اطرافه ۶۸۰ ، ٦۸۱، ١٢٠٥، ٠٤٤٤٨ پوری کرو اور آپ نے پردہ نیچے ڈال دیا اور اسی دن کے آخری وقت میں آپ نے وفات پائی۔تشریح: هَلْ يَلْتَفِتُ لَأمْرِ يَنْزِلُ بِهِ اَوْ يَرَى شَيْئًا : عنوان باب استفتاء کی صورت قائم کر کے اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک عمل کا حوالہ دیا گیا ہے۔آپ نے دیوار پر سامنے بلغم دیکھا، جو کراہت پیدا کرتا تھا اور نماز سے توجہ ہٹانے کا باعث تھا۔یہ واقعہ کتاب الصلوۃ باب ۳۳ ۳۴ میں بھی مذکور ہے۔ان میں وَهُوَ يُصَلَّى کے الفاظ نہیں۔روایت نمبر ۷۵۳ کے الفاظ میں کچھ ابہام ہے۔الفاظ فَحَتَهَا ثُمَّ قَالَ حِيْنَ انْصَرَفَ سے ذہن اس طرف منتقل ہوتا ہے کہ گویا آپ نے نماز ہی میں اسے کھر چاہے۔اسی غلط فہمی سے بچانے کے لئے امام بخاری نے عنوان باب میں اَوْ يَرَى شَيْئًا أَوْ بُصَاقًا فِی الْقِبْلَةِ کہہ کر بتایا ہے کہ آپ نے نماز پڑھتے وقت تھوک دیکھا تھا نہ کہ کھر چا تھا جو کہ اس روایت کی دوسری سندوں سے واضح ہوتا ہے۔(فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۳۰۵) امام موصوف نے مذکورہ بالا استفتاء کا جواب حذف کر دیا ہے۔وجہ یہ کہ نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حالتِ نماز میں دیوار سے کھر چاہے اور نہ حضرت ابو بکر مرے ہیں۔کیونکہ روایت مندرجہ بالا ( نمبر ۷۵۴ ) میں ان کے مڑنے کا ذکر نہیں، بلکہ الٹے پاؤں پیچھے ہٹنے کا ذکر ہے۔