صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 148
صحيح البخاری جلد ۲ ۱۴۸ ١٠ - كتاب الأذان تصدیق خارجی واقعات نہیں کیا کرتے۔مگر آپ نے بحالت نماز ایک ایسا نظارہ دیکھا ہے جس کا تعلق آپ کی امت کے مستقبل سے تھا جو پورا ہوا۔مَا مِن شَيْءٍ لَمْ أَكُنُ أُرِيْتُهُ إِلَّا رَأَيْتُهُ فِي مَقَامِي۔( کتاب العلم باب ۲۴ روایت نمبر ۸۶) روایت نمبر ۷۴۸ میں خوشہ لینے کے بارے میں یہ الفاظ ہیں: فَتَنَا وَلْتُ مِنْهَا عُنْقُوْدًا وَلَوْ أَخَذْتُهُ لَا كَلْتُمْ مِنْهُ مَا بَقِيَتِ الدُّنْيَا۔اگر میں وہ خوشہ لے آتا تو جب تک دنیا ہتی تم اس سے کھاتے رہتے مگر میں نے اس کو نہیں لیا۔الفاظ لَا كَلْتُمْ مِنْهُ مَا بَقِيَتِ الدُّنْيَا سے ظاہر ہے کہ اس خوشے کا جو بحالت کشف دیکھا گیا دنیا سے تعلق ہے اور اس کی تعبیر یہ ہے کہ آپ کی امت کے لئے مقدر ہے کہ دنیاوی نعمتیں ہمیشہ اس کے ساتھ نہ رہیں۔بلکہ زمانہ ٹھسر بھی اس پر آتا رہے۔قُلْتُ لَى رَبِّ وَأَنَا مَعَهُمُ یعنی اے رب! کیا میں بھی ان کے ساتھ ہوں؟ جہنم قریب ہونے اور آپ کو یہ خیال گزرنے کے یہ معنی ہیں کہ آپ کی امت کے لئے خطرناک ابتلاء مقدر ہے جس کی تکمیل دجال کے ہاتھوں سے ہوگی۔اس واقعہ کا ذکر کتاب العلم باب ۲۴ میں گزر چکا ہے۔اس میں یہ الفاظ ہیں تُفتَنُونَ فِي قُبُورِكُمْ۔۔۔فِتْنَةَ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ - یعنی فتنہ دجال کے ذریعہ سے قبروں میں تمہاری آزمائش کی جائے گی۔یہ فتنہ وہی فتنہ محیا وممات ہے جس سے پناہ مانگنے کے لئے ہمیں دعا سکھائی گئی ہے۔یعنی اس کے ذریعے سے ایک ایسا فتنہ برپا ہوگا جس کا تعلق لوگوں کی زندگی اور موت کے ساتھ ہے۔اس کے ایک ہاتھ میں جہنم ہو گا جو اس کی نہ مانے گا وہ اس میں اس کو جھونکے گا۔یہی وہ جہنم ہے جو آپ کو خسوف شمس کے وقت بحالت نماز دکھایا گیا تھا۔آئی رَبِّ وَأَنَا مَعَهُمْ کے الفاظ مفہوم وہی الفاظ ہیں جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے منہ سے بوقت زلزلہ نکلے آتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَاءُ مِنَّا إِنْ هِيَ إِلَّا فِتَتكَ (الاعراف: ۱۵۶) { کیا تو ہمیں اس فعل کی بنا پر جو ہمارے بیوقوفوں سے سرزد ہوا ہلاک کر دے گا۔یقینا یہ تیری طرف سے ایک آزمائش ہے۔دونوں جگہ امت کی ہلاکت اپنی ہلاکت سے تعبیر کی گئی ہے۔اس کے بعد معا تیسر انظارہ جو آپ کی آنکھوں کے سامنے آیا ہے، وہ جہنم میں ایک عورت کو بلی کے نوچنے کا نظارہ ہے۔اس سے بتایا گیا ہے کہ جہنم کے سزا وار وہ ظالم لوگ ہیں جو مخلوق خدا کی آزادی چھین کر اسے زندگی کے سامانوں سے محروم کرتے اور اسے موت کے گھاٹ اتارتے ہیں۔اس نظارہ میں دجالی فتنہ محیا و ممات کے انجام کی طرف بھی اشارہ ہے کہ بالآ خر مظلوم مخلوق کو دجال کے نوچنے کا موقع دیا جائے گا اور پھر وہ اپنے بھڑ کائے ہوئے جہنم کا مزہ چکھے گا۔وَقِيلَ لِلظَّالِمِينَ ذُوقُوا مَا كُنتُمْ تَكْسِبُونَ (الزمر: ۲۵ ) { اور ظالموں سے کہا جائے گا کہ چکھو جو تم کسب کرتے ہو) غرض اس کشف سے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تصریح صاف بتاتی ہے کہ کسوف شمس کے موقع پر جو نظارہ آپ کو دکھایا گیا تھا، اس کا تعلق آپ کی امت اور فتنہ دجال سے تھا۔جو ظہور میں آگیا ہے اور یہ نظارہ و ہم نہ تھا کیونکہ وہم کی تصدیق واقعات نہیں کرتے۔حضرت دانیال علیہ السلام کی دجال سے متعلق جو پیشگوئی ہے اس میں بھی یہی الفاظ ہیں کہ بہتوں کو آزمائش میں ڈالا جائے گا۔(دیکھئے دانیال باب ۱۲) عبرانی کے الفاظ کا مذکورہ بالا لفظی ترجمه تحفہ گولڑو یه صفحه ۲۰ تا ۲۰۸ روحانی خزائن جلد۷ اصفحہ ۷ ۲۸ تا ۲۹۴ پر نقل کیا گیا ہے۔موجودہ اردو تراجم میں یہ الفاظ نہیں ہیں۔