صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 147
صحيح البخاری جلد ۲ ۱۴۷ ١٠ - كتاب الأذان قَالَ نَافِعٌ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ مِنْ نافع کہتے تھے: میرا خیال ہے۔( ابن ابی ملیکہ نے ) خَشِيْشَ أَوْ خَشَاشِ الْأَرْضِ۔اطرافه: ٢٣٦٤۔تشریح: کہا: زمین کے کیڑے مکوڑے خَشِیش (الْأَرْضِ) فرمایا یا خَشَاشِ الْأَرْضِ۔مَا يَقُولُ بَعْدَ التَّكْبِيرِ : امام موصوف نے یہاں باب کا عنوان قائم نہیں کیا کیونکہ یہ مستقل نیا مضمون نہیں۔بلکہ اس کا تعلق باب ما قبل ( نمبر ۸۹) سے ہے۔باب ۸۸ کا عنوان ہے، نماز میں خشوع اور باب ۸۹ کا عنوان ہے، تکبیر کے بعد کیا کہے اور اس کے ذیل میں آپ کی دعا کا ایک نمونہ پیش کیا گیا ہے۔جو اسلامی نماز کا صحیح عنوان ہے اور خشوع قلبی کی ایک ناطق مثال ہے۔ہماری نماز کی دعا ئیں خصوصا سورہ فاتحہ اپنے اندر وہ معانی رکھتی ہے جو نفس میں خشوع و خضوع کے جذبات پیدا کرنے والے ہیں۔سورہ فاتحہ کے متعلق خود قرآن مجید فرماتا ہے: مَشَانِيَ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلَى ذِكْرِ الله (الزمر : ۲۴) یعنی یه ( سات آیتیں ) ایسی کیفیت انگیز ہیں کہ اس سے مومنوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور دل رقت سے بھر جاتا ہے۔مَثَانِي کے معنی مِنْ أَوْتَادِ الْعُوْدِ الَّذِي بَعْدَ الاَوَّلِ سارنگی یا بربط۔۔۔اور مَثَانِي الشَّيْءِ قُوَاهُ وَطَاقَاتُهُ يعنى تاریں۔(لسان العرب تحت لفظ شنی ) آیات کو ساز موسیقی کے ساتھ تشبیہہ دی گئی ہے۔سورہ فاتحہ اور اس کے علاوہ جتنی بھی مسنونہ دعائیں ہیں ان سب میں یہی اثر بھرا ہوا ہے۔امام موصوف نے اس ضمن میں باب ۹۰ قائم کر کے اشارہ ظاہر کیا ہے کہ تکبیر کے بعد خشوع و خضوع سے بہت دعائیں کی جائیں۔جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن کے موقع پر کیں اور یہ بھی بتایا ہے کہ جب انسان پر خشوع کی حالت طاری ہوتی ہے تو وہ اس عالم میں نہیں ہوتا۔بلکہ ایک اور عالم میں ہوتا ہے۔جیسا کہ نماز کسوف کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت ظاہر کر رہی ہے۔۔۔سورج گرہن ہوا اور اس طبعی نظارے نے آپ کے دل میں اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال اور اس کی خشیت کے جذبات ابھار دیئے۔جس سے آپ نماز میں خشوع و خضوع کا مجسمہ بن گئے۔رکوع میں جھکتے ہیں تو گویا کھڑا ہونا بھول گئے ہیں اور سجدہ میں گرتے ہیں تو سر ہی نہیں اٹھاتے ، کھڑے ہوئے تو دیر تک کھڑے رہے۔غرض استغراق کلی اور محویت کا ایک نقشہ جما ہوا تھا اور آپ اس عالم میں نہیں بلکہ دوسرے عالم میں تھے۔جس کا تعلق جنت اور جہنم کے ساتھ ہے۔یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز تھی ، جس کی کیفیات اپنے اندر پیدا کرنے کی ہمیں ہدایت کی گئی ہے۔جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ ظاہر و باطن دونوں عظمت و جلال الہی کی جلوہ گاہ بن جائیں۔خشوع و استغراق تام نماز کی جان ہے اور تزکیہ نفس اس کا ثمرہ شیریں ، جو انسان کو جنت الفردوس کا وارث بناتا ہے۔قَدْ دَنَتْ مِنِى الْجَنَّةُ۔۔۔۔۔عالم روحانی کا جو نظارہ آپ نے دیکھا ہے وہ کوئی وہم نہ تھا ایسی باتوں کی