صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 145
صحيح البخاری جلد ۲ ۱۴۵ ١٠ - كتاب الأذان بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ اللَّهُمَّ اتنی دوری ڈال دے جتنی دوری تو نے مشرق نَقِنِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ اور مغرب میں ڈالی ہے۔الہی مجھے خطاؤں سے ایسا الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ اللَّهُمَّ اغْسِلْ پاک وصاف کر دے۔جیسے سفید کپڑا میل کچیل سے خَطَايَايَ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ۔پاک وصاف کر دیا جاتا ہے۔الہی میری خطائیں پانی تشریح: اور برف اور اولوں سے دھوڈال۔مَا يَقُولُ بَعْدَ التَّكْبِير : اس باب کی پہلی روایت کے الفاظ كَانُوا يَفْتَتِحُونَ الصَّلَاةَ سے مراد ابتدائے قرآت ہے اور دوسری روایت کے الفاظ يَسُكُتُ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَبَيْنَ الْقِرَاةِ میں بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ اکبر کہنے کے بعد اور سورہ فاتحہ پڑھنے سے پہلے مذکورہ بالا دعا مانگا کرتے تھے۔اس دعا کے الفاظ اس بچی تڑپ اور شدید بے قراری پر دلالت کرتے ہیں، جو آپ کے دل میں کامل پاکیزگی حاصل کرنے کے لئے تھی۔دعا در اصل انسان کی خواہشات اور آرزوؤں کی صحیح ترجمانی کرتی ہے۔دعا سے پتہ چلتا ہے کہ دعا کرنے والے کی قلبی حالت اور سمح نظر کیا ہے۔سید البشر صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعا میں اسی پر اکتفا نہیں کی کہ خطائیں آپ سے ایسی دور کر دی جائیں جیسے مشرق سے مغرب اور نہ اس پر اکتفا کی ہے کہ آپ کا نفس تمام کدورتوں سے دھل کر ایسا سفید ہو جائے جیسے کپڑا میل سے، بلکہ یہ چاہا ہے کہ برف اور اولوں سے بھی دھویا جائے۔تا خفی سے مخفی جراثیم بھی اگر ہوں تو وہ بھی باقی نہ رہیں۔کپڑے برف اور اولوں سے نہیں دھوئے جاتے۔مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا تزکیہ نفس کے لئے آپ کی انتہائی ترپ کے نتیجہ میں فیوض تجلیات رحیمیہ نے آپ کو سکھائی ہے اور آج لمبی تحقیق سے یہ ثابت ہوا ہے کہ برف سے بعض لا علاج پھوڑوں کا علاج کیا جاتا ہے اور اطباء اس کو بطور Antiseptic یعنی کرم گش استعمال کرتے ہیں۔آپ کے دعائیہ الفاظ میں ایک طبعی طلب مخفی ہے جو اپنی انتہا تک پہنچی ہوئی ہے۔آپ کی ساری دعائیں ایک خاص رنگ رکھتی ہیں۔اس ضمن میں یہ یادر ہے کہ نماز کی اصل غرض یہ ہے کہ انسان کامل پاکیزگی حاصل کر کے اس خدائے قدوس کے رنگ میں رنگین ہو جائے جو سراسر پاک ہے۔باب ۹۰ ٧٤٥: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ قَالَ ۷۴۵ : ابن ابی مریم نے ہم سے بیان کیا، کہا: نافع أَخْبَرَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ بن عمر نے ہمیں بتایا ، کہا: ابوملیکہ کے بیٹے نے مجھے أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْر خبر دی۔حضرت اسماء بنت ابو بکر سے مروی ہے کہ نبی أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن کی نماز پڑھی۔