صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 144
صحيح البخاری جلد ۲ ۱۴۴ ١٠ - كتاب الأذان بنیاد ہے۔اس مقام ادب و تربیت کی جس پر شریعت اسلام کا دارو مدار ہے۔تفصیل کے لئے دیکھئے اسلامی اصول کی و فلاسفی تیسری حالت نفس مطمئنہ - صفحه ۴ تا ۱۰ روحانی خزائن جلده اصفحه ۳۱۸ تا ۳۲۴ بَابِ ۸۹ : مَا يَقُولُ بَعْدَ التَّكْبِيرِ تکبیر کے بعد کیا کہے ٧٤٣: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ قَالَ :۷۴۳ حفص بن عمر نے ہم سے بیان کیا ، کہا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَس أَنَّ شعبہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے قتادہ سے، قتادہ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ نے حضرت انسؓ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَانُوا اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما يَفْتَحُوْنَ الصَّلَاةَ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ نماز الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سے شروع الْعَالَمِينَ" کرتے تھے۔٧٤٤: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ :۷۴۴ موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ قَالَ عبد الواحد بن زیاد نے ہمیں بتایا۔انہوں نے کہا: عمارہ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ قَالَ حَدَّثَنَا بن قعقاع نے ہم سے بیان کیا ، کہا : ہم سے ابوزرعہ أَبُو زُرْعَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ نے بیان کیا۔انہوں نے کہا: حضرت ابو ہریرہؓ نے كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ہمیں بتایا ، کہا: رسول اللہ ﷺ تکبیر اور اقامت کے يَسْكُتُ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَبَيْنَ الْقِرَاءَةِ درمیان کچھ خاموش رہتے۔(ابوزرعہ ) کہتے تھے: میرا خیال ہے کہ انہوں نے کہا: تھوڑی دیر تک۔تو میں نے کہا: یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر ) بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُوْلَ اللهِ إِسْكَاتُكَ بَيْنَ قربان تکبیر اور قرآت کے درمیان آپ جو خاموش التَكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ مَا تَقُوْلُ قَالَ أَقُولُ رہتے ہیں آپ کیا پڑھتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: میں اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا کہتا ہوں: البہی میرے اور میری خطاؤں کے درمیان إِسْكَاتَةً قَالَ أَحْسِبُهُ قَالَ هُنَيَّةً فَقُلْتُ