صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 142 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 142

صحيح البخاری جلد ۲ ١٠ - كتاب الأذان بَاب :۸۷: وَضعُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى {فِي الصَّلَاةِ} ( نماز میں ) داہنا ہاتھ بائیں بازو پر رکھنا ٧٤٠: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ۷۴۰: عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا۔عَنْ مَّالِكِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ انہوں نے مالک سے، مالک نے ابوحازم سے، سَعْدٍ قَالَ كَانَ النَّاسُ يُؤْمَرُوْنَ أَنَّ ابو حازم نے سہل بن سعد سے روایت کی۔انہوں نے يَضَعَ الرَّجُلُ الْيَدَ الْيُمْنَى عَلَى ذِرَاعِهِ کہا: لوگوں کو یہ حکم دیا جاتا تھا کہ ہر آدمی نماز میں داہنا الْيُسْرَى فِي الصَّلَاةِ قَالَ أَبُو حَازِمٍ لَا ہاتھ اپنے بائیں بازو پر رکھے۔(اور ) ابوحازم کہتے أَعْلَمُهُ إِلَّا يَنْمِي ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى تھے : میں تو یہی جانتا ہوں کہ وہ ( یعنی سہل ) اس بات اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِسْمَاعِيلُ يُنْمَى کونبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرتے تھے۔اسماعیل نے کہا: انہوں نے لفظ يَنْمِی نہیں کہا: بلکہ ينمى ذلِكَ کہا۔یعنی اسے منسوب کیا جاتا تھا۔تشريح : وَضَعُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فِي الصَّلَاةِ : ہاتھ پر ہاتھ رک کر کھڑے ہونے کا طریقہ ذَلِكَ وَلَمْ يَقُلْ يَنْمِي۔قدیم سے چلا آتا ہے۔جو اطاعت شعاری اور فرمانبرداری پر دلالت کرتا ہے۔ترکی اقوام میں اظہا ر ادب کے لئے ہاتھ باندھے جاتے ہیں اور ایرانی اقوام میں ہاتھ چھوڑ کر کھڑا ہوتا ادب کی علامت ہے۔مغربی اقوام میں گھٹنوں کے بل بیٹھنا اور ہندؤوں وغیرہ قوموں میں جھکنا اور افریقہ کی اقوام میں سجدے میں گر جانا ادب و فرمانبرداری کی علامت سمجھی جاتی ہے۔شارع اسلام علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی عبادت میں ہر طریقہ اختیار کیا ہے۔جس سے نفس میں خشوع و خضوع اور اطاعت و محبت کے جذبات پیدا ہوں۔باب نمبر ۷ ۸ و باب نمبر ۸۸ پہلو بہ پہلور کھنے سے اسی نکتہ کی طرف توجہ ولانی مقصود ہے۔ہاتھ باندھنے سے متعلق اختلاف کہ کہاں باندھے اور کس طرح باند ھے؛ یہ اختلاف کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔اسی وجہ سے امام بخاری نے اس کی طرف التفات نہیں کیا۔جيا الفاظ في الصَّلاةِ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں۔(فتح الباری جزء ثانی حاشیہ صفحہ ۲۹) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔