صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 141
صحيح البخاری جلد ۲ ۱۴۱ ١٠ - كتاب الأذان عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ الله وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ فَلَمْ يَرْفَعُوا أَيْدِيَهُمْ إِلَّا عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلاةِ۔ (سنن الكبرى للبيهقي، كتاب الصلاة، باب من لم يذكر الرفع الا عند الافتتاح، جزء ۲ صفحه ۷۹ روایت نمبر ۲۳۶۵) حضرت عبداللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کے ساتھ نماز پڑھی ہے، لیکن انہوں نے رفع یدین صرف نماز کے آغاز میں کیا۔ عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّهُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي التَّكْبِيرَةِ الْأُولَى مِنَ الصَّلَاةِ ثُمَّ لَا يَرْفَعُ فِي شَيْءٍ مِنْهَا (سنن الكبرى للبيهقي۔ كتاب الصلاة۔ باب من لم يذكر الرفع الا عند الافتتاح - جزء ثانی صفحه ۸۰ ، روایت نمبر ۲۳۶۷) یعنی عاصم بن کلیب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رفع یدین صرف نماز کی پہلی تکبیر میں ہی کیا کرتے تھے اور (نماز) کی کسی اور حرکت پر ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے ۔ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ كَانَ أَصْحَابُ عَبْدِ اللَّهِ وَأَصْحَابُ عَلِيٌّ لَا يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ إِلَّا فِي افْتِتَاحِ الصَّلاةِ۔ ابو اسحاق بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ اور حضرت علیؓ کے ساتھی صرف نماز کے آغاز میں ہی رفع یدین کرتے تھے۔ قَالَ النُّمَيْرِيُّ الصَّحَابَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مُخْتَلِفُونَ فِي هَذَا الْبَابِ وَأَمَّا الْخُلَفَاءُ الاَرْبَعَةُ فَلَمْ يَثْبُتُ عَنْهُمْ رَفْعُ الْأَيْدِي فِي غَيْرِ تَكْبِيرَةِ الْإِحْرَامِ نمیری بیان کرتے ہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم اور ان کے بعد آنے والے تو اس بات کے بارے میں اختلاف رکھتے تھے۔ لیکن خلفاء اربعہ سے صرف تکبیر تحریمہ میں ہی رفع یدین ثابت ہے ۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ الْعَشَرَةُ الَّذِينَ شَهِدَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ بِالْجَنَّةِ مَا كَانُوا يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ إِلَّا فِي افْتِتَاحِ حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ وہ دس صحابہ جن کو اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی بشار نے جنت کی بشارت دی ، وہ صرف نماز - (نماز کے) آغاز میں ہی رفع یدین کرتے ۔ اگر چہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دونوں عمل ثابت ہیں؛ رفع یدین و ترک رفع یدین لیکن دوام ترک رفع یدین پر ہی ہے۔ اس بارے میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :۔ رسول الله علی رتے تھے۔ اس میں چنداں حرج معلوم نہیں ہوتا ، خواہ کوئی کرے یا نہ کرے۔ احادیث میں بھی اس کا ذکر دونوں طرح پر ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی وقت رفع یدین کیا بعد ازاں ترک کر دیا ۔ ( فتاوی حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحه ۳۵) اسی طرح ایک شخص نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ کیا رفع یدین ضروری ہے؟ آپ نے فرمایا :- ضروری نہیں۔ جو کرے تو جائز ہے۔“ البدر ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۷ )