صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 140 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 140

صحيح البخاری جلد ۲ ۱۴۰ ١٠ - كتاب الأذان تشریح: رَفَعَ اليَدَيْنِ إِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ: یعنی التحیات کے بعد کھڑا ہونے پر روایت نمبر ۷۳۶۷۷۳۵، ۷۳۸ جو حضرت عبداللہ بن عمر سے مروی ہیں۔ان میں یہ ذکر نہیں کہ دور کعتیں پڑھ کر جب آپ کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے ہوئے ہاتھ اٹھاتے۔ان روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز شروع کرتے وقت آپ ایسا کیا کرتے تھے۔مگر نافع کی روایت ( نمبر ۷۳۹) میں دورکعتوں کے بعد ہاتھ اٹھانے کا ذکر ہے۔ان دونوں روایتوں میں کوئی تعارض نہیں۔بلکہ یہ ایک زائد بات ہے جو حضرت ابن عمر کے آزاد کردہ غلام نافع سے مروی ہے اور ان کے بیٹے سالم سے بھی ایک سند میں یہی مروی ہے۔(دیکھئے فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۲۸۸) باب نمبر ۸۳ سے باب نمبر ۶ ۸ تک جو احادیث بیان ہوئی ہیں ، اُن میں اس بات کا ذکر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر تحریمہ ، رکوع اور رکوع سے سر اُٹھاتے وقت ہاتھ اُٹھائے۔اس بارے میں یہ سوال ہو سکتا ہے کہ جب یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے تو نمازوں میں ایسا کیوں نہیں کیا جاتا ؟ سو اس کے جواب میں یاد رکھنا چاہیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق جو آخری کیفیت بیان کی گئی ہے، اس میں رفع یدین کا کہیں بھی ذکر نہیں اور نہ یہ حکم مذکور ہے کہ تکبیر تحریمہ کے بعد رکوع میں جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت ہاتھ اُٹھائے جائیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ سنت صحابہ میں جس طرح جاری ہوئی انہوں نے من و عن تابعین تک پہنچائی اور بڑی وضاحت سے بتایا کہ یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز تھی۔اس میں ہم نے کوئی کمی و بیشی نہیں کی۔مثلاً حضرت علیؓ نے نماز پڑھ کر دکھائی اور فرمایا یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز تھی۔اس میں انہوں نے تکبیر تحریمہ کے علاوہ رفع یدین کا ذکر نہیں کیا۔( روایت نمبر ۷۸۶،۷۸۴) اسی طرح حضرت ابو ہریرۃ نے نماز پڑھ کر دکھائی اور انہوں نے بھی تکبیر تحریمہ کے علاوہ کسی جگہ رفع یدین نہیں کیا اور بتایا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز تھی۔( روایت نمبر ۸۰۳۷۸۵) حضرت مالک بن حویرث نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے مشابہہ نماز پڑھ کر دکھائی۔(روایت نمبر ۸۰۲) اور حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ جنہوں نے صراحت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر تحریمہ کے علاوہ رفع یدین نہیں کرتے تھے :- قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ أَلَا أَصَلَّى بِكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللهِ لا لا فَصَلَّى وَلَمْ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِلَّا فِي أَوَّلِ مرة { حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے کہا: کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسی نماز نہ پڑھاؤں۔پھر انہوں نے نماز پڑھائی اور رفع یدین صرف ایک ہی ( پہلی دفعہ کیا۔عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ لا كَانَ لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِلَّا عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ وَلَا يَعُودُ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ { حضرت عبد الله بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے آغاز کے سوا رفع یدین نہیں کرتے تھے۔اور اس کو ( یعنی رفع یدین کو ) دُہراتے نہ تھے۔} على الله صلى الله لا (ترمذى۔كتاب الصلاة باب ما جاء ان النبى الله لم يرفع الا في اول مرة) (ابوداؤد كتاب الصلاة باب من لم يذكر الرفع عند الركوع) (نسائی۔كتاب التطبيق۔باب الرخصة فی ترک ذلک