صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 136 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 136

صحيح البخاری جلد ۲ ۱۳۶ ١٠ - كتاب الأذان صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ اپنے باپ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ وَإِذَا جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ مونڈھوں تک اٹھاتے اور اس وقت بھی اٹھاتے جب الرُّكُوعِ رَفَعَهُمَا كَذَلِكَ أَيْضًا وَقَالَ آپ رکوع کے لئے اللہ اکبر کہتے اور جب سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ رکوع سے اپنا سر اٹھاتے اور فرماتے: سَمِعَ اللهُ وَكَانَ لَا يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُوْدِ۔لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ اور سجدوں میں اطرافه ۷۳٦، ۷۳۸، ۷۳۹ تشریح: آپ ایسانہ کرتے۔رَفْعُ الْيَدَيْنِ فِى التَّكْبِيرَةِ الأولى مَعَ الْافْتِتَاحَ سَوَاءٌ مسئلہ مذکور میں علماء میں تقدیم و تاخیر سے متعلق جزئی اختلاف ہے۔مگر ترجیح اس بات کو ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم الله اكبر کے ساتھ ہی دونوں ہاتھ اٹھاتے تھے اور مستند روایتیں اس کی تائید میں ہیں۔دوسرا اختلاف یہ ہے کہ رفع یدین فرض ہے یا سنت؟ جمہور کا مذہب یہ ہے کہ وہ سنت ہے۔اس بارہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل تو ثابت ہے۔مگر صریح ارشاد مردی نہیں۔تیسرا اختلاف یہ ہے کہ کس وقت ہاتھ اٹھائے جائیں؟ تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین پر تو سب کو اتفاق ہے مگر رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھانے کے وقت سوائے علماء کوفہ ( یعنی ابو حنیفہ) اور سفیان ثوری وغیرہ کے باقی سب ائمہ اور جمہور اہل حدیث رفع یدین پر متفق ہیں۔روایت نمبر ۷۳۵ اسی مذہب کی تائید کرتی ہے اور سجدہ میں جاتے وقت اور اس سے سر اٹھانے پر آپ ہاتھ نہ اٹھاتے تھے۔باب ٨٤: رَفْعُ الْيَدَيْنِ إِذَا كَبَّرَ وَإِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ دونوں ہاتھ اٹھانا اس وقت کہ جب اللہ اکبر کہے اور جب رکوع کرے اور جب (رکوع سے ) اُٹھے ٧٣٦: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلِ ٧٣٦: محمد بن مقاتل نے ہم سے بیان کیا ، کہا : قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عبدالله بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے کہا عَنِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ کہ یونس نے ہمیں خبر دی کہ زہری سے مروی ہے کہ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْن عُمَرَ رَضِيَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ سالم بن عبد اللہ نے مجھے بتایا کہ ( ان کے باپ)