صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 135 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 135

صحيح البخاری جلد ۲ ۱۳۵ ١٠ - كتاب الأذان سَجَدَ فَاسْجُدُوا وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا جب کے سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ تو تم کہو رَبَّنَا وَلَكَ فَصَلُّوْا جُلُوسًا أَجْمَعُوْنَ۔ اطرافه: ۷۲۲ تشريح : إيجَابُ التكبير : : الْحَمْدُ اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو اور جب بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی سب بیٹھ کر نماز پڑھو۔ مسئلہ معنونہ روایت نمبر ۷۳۲ سے استدلالا اخذ کیا گیا ہے۔ کیونکہ امام نماز کی ابتداء الله اكبر سے کرتا ہے اور چونکہ اس کی اتباع واجب ہے اس لئے ضروری ہے کہ تکبیر تحریمہ سے نماز شروع کی جائے۔ روایت نمبر ۳۳ے میں اس امر کی تصریح ہے کہ اللہ اکبر سے جب امام نماز شروع کرے تو تم بھی اسی طرح الله اکبر سے نماز شروع کرو۔ امام کے ساتھ باجماعت نماز شروع کرنے سے پہلے نمازی حالت تفرقہ میں ہوتے ہیں۔ کسی کا منہ ادھر اور کسی کا اُدھر کوئی قیام کی حالت میں ہوتا ہے اور کوئی رکوع میں اور کوئی سجود میں اور بعض بیٹھے ہوئے دعائے التَّحِيَّاتُ میں مشغول اور بعض سلام پھیر کر نماز سے فارغ ہو رہے ہوتے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو باتوں میں مشغول ۔ غرض ایک شدید اختلاف کا نظارہ ہوتا ہے۔ مگر امام کے کھڑا ہونے کے ساتھ اللہ اکبر ۔ الله اکبر کے نام پر یہ حالت تفرقہ فوراً صف اتحاد کی صورت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اللہ اکبر کی آواز بلند ہوتے ہی کیا امام اور کیا مقتدی اللہ تعالیٰ کو اپنا قبلہ رخ بنا کر سنجیدگی و فروتنی سے اقرار عبودیت کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ پھر اسی اللہ اکبر کی آواز پر ان کا رکوع و سجود اور ان کا قیام وقعود ہوتا ہے۔ اس نظام سے ظاہر ہے کہ تمام نمازیوں نے تکبیر تحریمہ سنتے ہی اللہ تعالی کے لئے اپنے تمام اختلافات مٹا کر یکسانیت پیدا کر لی ہے۔ تکبیر جس کے ساتھ نماز شروع کی جاتی ہے۔ تکبیر تحریمہ کہلاتی ہے۔ کیونکہ اللہ اکبر کی آواز پر تمام اغراض نفسانیہ اور مقاصد و علائق دنیا یہ حرام ہو جاتے ہیں اور اس تکبیر کے وقت ہاتھ اٹ ہاتھ اٹھانے میں دو باتوں کی طرف اشارہ ہے۔ اول یہ کہ اللہ تعالیٰ سب اسب سے بڑا ہے اور دوم یہ کہ ہم تمام یہ کہ ہم تمام علائق سے دست بردار ہو کر اس کی عبادت میں مشغول ہوتے ہیں۔ اس تکبیر تحریمہ کے وجوب پر سوائے چند فقہاء کے جمہور کا اتفاق ہے۔ کسی مذہب کی عبادت میں وہ فلسفیانہ حقیقت نہیں پائی جاتی جو اسلامی عبادت میں ہے۔ بَاب ۸۳ : رَفْعُ الْيَدَيْنِ فِي التَّكْبِيرَةِ الْأُولَى مَعَ الْإِفْتِتَاحِ سَوَاءً نماز شروع کرتے ہی پہلی تکبیر میں دونوں ہاتھوں کا ایک ساتھ اٹھانا ٧٣٥ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ :۷۳۵: عبداللہ بن مسلمہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں عَنْ مَالِكَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ نے مالک سے، مالک نے ابن شہاب سے، بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيْهِ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ابن شہاب نے سالم بن عبداللہ سے، سالم نے