صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 133
صحيح البخاری جلد ۲ ما ١٠ - كتاب الأذان بال الحالي أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ* 0000000000 باب ٨٢: إِيْجَابُ الْتَّكْبِيرِ وَافْتِتَاحُ الصَّلَاةِ تکبیر تحریمہ ) کا واجب ہونا اور نماز کا شروع کرنا :۷۳۲ حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ :۷۳۲ ابویمان نے ہم سے بیان کیا، کہا : شعیہ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ نے ہمیں بتایا۔زہری سے مروی ہے کہ انہوں نے أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكِ الْأَنْصَارِيُّ أَنَّ کہا : حضرت انس بن مالک انصاری نے مجھ سے رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گھوڑے پر رَكِبَ فَرَسًا فَجُحِشَ شِقُهُ الْأَيْمَنُ قَالَ سوار ہوئے تو آپ کا داہنا پہلو چھل گیا۔حضرت انس أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَصَلَّى لَنَا يَوْمَئِذٍ رضی اللہ عنہ کہتے تھے: اس وجہ سے آپ نے اس دن ہمیں نمازوں میں سے ایک نماز بیٹھ کر پڑھائی اور ہم صَلَاةٌ مِنَ الصَّلَوَاتِ وَهُوَ قَاعِدٌ فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ قُعُوْدًا ثُمَّ قَالَ لَمَّا سَلَّمَ نے بھی آپ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی۔پھر جب سلام پھیرا تو آپ نے فرمایا: امام تو اسی لئے مقرر کیا إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا صَلَّى گیا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔سو جب وہ قَائِمًا فَصَلُّوْا قِيَامًا وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوْا کھڑا ہوکر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا وَإِذَا سَجَدَ اور جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب فَاسْجُدُوْا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللهُ لِمَنْ وہ سر اٹھائے تو تم بھی اٹھاؤ اور جب وہ سجدہ کرے تو حَمِدَهُ فَقُوْلُوْا رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ۔تم بھی سجدہ کرو اور جب کہے: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ تو تم کہو: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ۔اطرافه ،۳۷۸ ،٦۸۹، ۷۳۳، ۸۰۵، ۱۱۱۹، ۱۹۱۱، ۲٤٦۹، ٥۲۰۱ ٥٢٨٩، ٦٦٨٤ الفاظ ابواب صفة الصلاة فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں۔(فتح الباری جزء ثانی حاشیہ صفحہ ۲۸۰)