صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 132 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 132

سحيح البخاري - جلد ۲ ۱۳۲ ١٠ - كتاب الأذان ۷۳۱: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ ۷۳۱: عبدالاعلیٰ بن حماد نے ہم سے بیان کیا ، کہا : حَمَّادٍ قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ قَالَ حَدَّثَنَا وہیب نے ہم سے بیان کیا، کہا: موسیٰ بن عقبہ نے مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ ہمیں بتایا۔انہوں نے سالم ابوالنضر سے، سالم نے عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ بسر بن سعید سے، بہسر نے حضرت زید بن ثابت سے أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حجرہ اتَّخَذَ حُجْرَةً قَالَ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ مِنْ بنالیا۔بسر کہتے تھے کہ میرا خیال ہے زید کا قول ہے: ایک چٹائی کا حجرہ رمضان میں بنایا آپ نے کئی راتیں اس میں نماز پڑھی اور آپ کے صحابہ میں سے کچھ لوگوں نے آپ کی اقتداء میں نماز پڑھی۔جب بِهِمْ جَعَلَ يَقْعُدُ فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ آپ کو ان کے متعلق علم ہوا تو آپ بیٹھے رہے۔پھر فَقَالَ قَدْ عَرَفْتُ الَّذِي رَأَيْتُ مِنْ آپ ان کے پاس باہر تشریف لے گئے اور فرمایا: صَنِيْعِكُمْ فَصَلُّوْا أَيُّهَا النَّاسُ فِي مجھے پتہ لگ گیا تمہاری اس کاروائی کا جو میں نے بُيُؤْتِكُمْ فَإِنَّ أَفْضَلَ الصَّلَاةِ صَلَاةُ دیکھی۔سو تم اپنے گھروں میں نماز پڑھا کرو۔کیونکہ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ۔بہترین نماز آدمی کی وہ ہے جو وہ اپنے گھر میں پڑھتا ہے سوائے فرض نماز کے۔حَصِيْرٍ فِي رَمَضَانَ فَصَلَّى فِيْهَا لَيَالِيَ فَصَلَّى بِصَلَاتِهِ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَلَمَّا قَالَ عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عفان نے کہا: وہیب نے ہم سے بیان کیا ، ( کہا :) مُوسَى سَمِعْتُ أَبَا النَّضْرِ عَنْ بُسْرِ موسیٰ نے ہمیں بتایا کہ میں نے ابوالنصر سے سنا۔عَنْ زَيْدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔انہوں نے بسر سے، بسر نے حضرت زید سے، حضرت زیڈ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ( یہ روایت کی۔) اطرافه: ۶۱۱۳، ۷۲۹۰ تشریح: كَانَ لَهُ حَصِيْرٌ يَبْسُطُهُ بِالنَّهَارِ وَيَحْتَجِرُهُ بِاللَّيْلِ : عنوان باب صلوة الليل کی بحث یہاں مقصود بالذات نہیں بلکہ سابقہ باب سے متعلق صرف اپنا نقطہ نگاہ واضح کرنا ہے۔جیسے اوپر بیان کیا جا چکا ہے۔