صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 129
صحیح البخاری جلد ۲ ۱۲۹ ١٠ - كتاب الأذان باب ۷۹ : مَيْمَنَةُ الْمَسْجِدِ وَالْإِمَامِ مسجد اور امام کی داہنی جانب ۷۲۸ : حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا ثَابِتُ :۷۲۸ : موسیٰ نے ہم سے بیان کیا ، (کہا : ) ثابت بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنِ الشَّعْبِيّ بن یزید نے ہم سے بیان کیا ۔ ( ثابت نے کہا ) کہ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ عاصم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے شعبی سے شعبی نے قُمْتُ لَيْلَةً أُصَلِّي عَنْ يَسَارِ النَّبِيِّ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ۔ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ بِيَدِي أَوْ انہوں نے کہا کہ میں ایک رات اٹھ کر نبی صلی اللہ علیہ بِعَضُدِي حَتَّى أَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ وَقَالَ وَسلم کے بائیں جانب نماز پڑھنے لگا تو آپ نے میرا ہاتھ یا بازو پکڑ کر مجھے اپنی داہنی طرف کھڑا کر دیا ۔ بِيَدِهِ مِنْ وَرَائِي۔ اطرافه آپ نے مجھے اشارہ فرمایا کہ میرے پیچھے سے گھوم آ۔ ۱۱۳۸ ،۹۹۲ ،٦٩٩، ٨٥٩٧٢٦ ،۶۹۸ ،۶۹۷ ،۱۸۳ ،۱۳۸ ،۱۱۷ ٤٥٧٠، ٤٥٧١ ، ٤٥٧٢ ، ٥٩١٩، ٦٢١٥، ٦٣١٦، ٧٤٥٢ ،4569 ،119۸ تشريح : مَيْمَنَةُ الْمَسْجِدِ وَالْإِمَامِ : مسلم نے بھی سند کے ساتھ حضرت براء بن عازب کی روایت نقل کی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تو ہم پسند کرتے کہ آپ کے دائیں جانب ہوں۔ (مسلم ، کتاب صلاة المسافرين وقصرها، باب استحباب يمين الامام ) غالبا اس قسم کی روایات کو مد نظر رکھ کر باب مذکور قائم کیا گیا ہے۔ عنوان باب کا مقصد یہ ہے کہ مسجد کا یمین ویسا روہی ہے جو امام کا ہے۔ بَاب ۸۰ : إِذَا كَانَ بَيْنَ الْإِمَامِ وَبَيْنَ الْقَوْمِ حَائِطٌ أَوْ سُتْرَةً جب امام اور لوگوں کے درمیان دیوار یا اوٹ ہو وَقَالَ الْحَسَنُ لَا بَأْسَ أَنْ تُصَلِّيَ اور حسن بصری ) نے کہا کہ اس میں کوئی حرج نہیں وَبَيْنَكَ وَبَيْنَهُ نَهْرٌ وَقَالَ أَبُو مِجْلَةٍ يَأْتُم کہ تم نماز پڑھو جبکہ تمہارے اور امام کے درمیان بِالْإِمَامِ وَإِنْ كَانَ بَيْنَهُمَا طَرِيقٌ أَوْ دریا ہو اور ابومجلز نے کہا: امام کی اقتداء کرے خواہ جِدَارٌ إِذَا سَمِعَ تَكْبِيرَ الْإِمَامِ۔ ان دونوں کے درمیان راستہ یا دیوار ہو۔ بشرطیکہ امام کی تکبیر سنے۔