صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 130
صحيح البخاري - جلد ٢ ۱۳۰ ١٠ - كتاب الأذان ۷۲۹: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ قَالَ أَخْبَرَنَا ۷۲۹ محمد بن سلام ) نے ہم سے بیان کیا ، کہا : عَبْدَةُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ الْأَنْصَارِي عبدہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے یحی بن سعید انصاری عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ سے کسی نے عمرہ سے، عمرہ نے حضرت عائشہؓ سے رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ روایت کی۔حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اپنے حجرہ میں نماز پڑھ رہے تھے اور حجرہ کی دیوار پست تھی۔لوگوں نے نبی صلی اللہ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ فِي حُجْرَتِهِ وَجِدَارُ الْحُجْرَةِ قَصِيْرٌ فَرَأَى النَّاسُ شَخْصَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ أُنَاسٌ عِیہ وسلم کو دیکھ لیا اور کچھ لوگ کھڑے ہو کر آپ کی نماز کی اقتداء میں پڑھنے لگے اور انہوں نے صبح کو اس يُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ فَأَصْبَحُوْا فَتَحَدَّثُوا سے متعلق ذکر کیا۔دوسری رات بھی آپ تہجد پڑھنے بِذَلِكَ فَقَامَ لَيْلَةَ الثَّانِيَةِ فَقَامَ مَعَهُ أُنَاسٌ کے لئے کھڑے ہوئے تو آپ کے ساتھ کچھ لوگ يُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ صَنَعُوْا ذَلِكَ لَيْلَتَيْنِ کھڑے ہو گئے۔آپ کی نماز کی اقتداء میں نماز أَوْ ثَلَاثًا حَتَّى إِذَا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ جَلَسَ پڑھنے لگے۔دو یا تین راتیں انہوں نے ایسا ہی کیا۔رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ اس کے بعد جب ( نماز کا وقت ) ہوا تو رسول اللہ يَخْرُجْ فَلَمَّا أَصْبَحَ ذَكَرَ ذَلِكَ النَّاسُ صلى اللہ علیہ وسلم بیٹھے رہے اور نماز کے لئے نہیں فَقَالَ إِنِّي حَشِيْتُ أَنْ تُكْتَب عَلَيْكُمْ نکلے۔جب آپ صبح کو باہر گئے تو لوگوں نے اس کا ذکر کیا۔آپ نے فرمایا: میں ڈر گیا کہ تم پر رات کی صَلَاةُ اللَّيْلِ۔تشریح نماز فرض ہو جائے گی۔اطرافه ۷۳۰، ۹۲٤، ۱۱۲۹، ۲۰۱۱، ۲۰۱۲، ٥٨٦۱ إِذَا كَانَ بَيْنَ الْإِمَامِ وَبَيْنَ الْقَوْمِ حَائِط : یہ ایک مشہور اختلافی مسئلہ ہے اور امام مالک کے نزدیک کوئی حرج نہیں اگر امام اور مقتدی کے درمیان اوٹ ہو۔(عمدۃ القاری جز ۵۰ صفر ۲۶۲ تا۲۶۳) سعید بن منصور نے صحیح سند کے ساتھ روایت کی ہے کہ امام کے پیچھے چھت پر اس کی اقتداء میں نماز پڑھنا جائز ہے۔امام ابوحنیفہ اسی صورت میں نماز جائز سمجھتے ہیں جب صفیں ایک دوسرے سے ملی ہوئی ہوں اور شعیبی اور ابراہیم شخصی نے راستہ کا درمیان ہونا مکروہ سمجھا ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۵ صفحه ۲۶۳٬۲۶۲) حسن بصری امام مالک کی رائے سے متفق ہیں۔ابو مجلز کے نزدیک جو ایک مشہور تابعی ہیں تکبیر سننا شرط ہے۔امام بخاری نے اپنی رائے کا اظہار صراحتا نہیں کیا۔