صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 128
صحيح البخاري - جلد ۲ ۱۲۸ ١٠ - كتاب الأذان ہے کہ اگر کوئی مقتدی بھولے سے اپنا مقام چھوڑ کر دوسرے مقام پر کھڑا ہو تو کیا اس کی نماز کامل ہوگی اور آیا اس کا یہ عمل إقَامَتْ الصَّلوة کا مفہوم باطل تو نہیں کرے گا؟ اِقَامَةُ الصَّتِ مِنْ تَمَامِ الصَّلوة (باب نمبر ۷۴) جماعت کی صف بندی تبھی صف بندی کہلائے گی جب امام اپنے مقام پر ہو اور مقتدی اپنے مقام پر۔غرض باب نمبر ۷۶ ۷۷ میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ اِقامَتْ الصَّفِ کے کیا معنی ہیں۔مقتدی کے دو مقام ہیں۔ایک مقام اس کا مقتدیوں کے اعتبار سے ہے۔یعنی ان کے ساتھ دوش بدوش قدم کے ساتھ قدم ملا کر مشترکہ غرض یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے کھڑا ہونا اور اس کا دوسرا متقام منصب امام کے اعتبار سے۔یعنی مقام اقتداء واطاعت۔ان دونوں مقاموں کی حفاظت ہی سے جماعت کی صف بندی صحیح معنوں میں قائم ہوسکتی ہے۔اسی بار یک تعلق کو مد نظر رکھتے ہوئے باب ۴ے کے بعد تین باب نمبر ۷۵ سے لے کر نمبرے ے تک یکے بعد دیگرے باندھے گئے ہیں۔باب ۷۸: الْمَرْأَةُ وَحْدَهَا تَكُوْنُ صَفًّا عورت اکیلی ہی صف ہوتی ہے ۷۲۷: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ۷۲ عبد اللہ بن محمد نے ہم سے بیان کیا ، کہا : قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِسْحَاقَ عَنْ سفیان نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اسحاق سے، اسحاق أَنس بن مَالِكِ قَالَ صَلَّيْتُ أَنَا وَيَتِيْمٌ نے حضرت انس بن مالک سے روایت کی۔انہوں بْنِ فِي بَيْتِنَا خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے کہا: میں نے اور ایک یتیم لڑکے نے نبی صلی اللہ وَسَلَّمَ وَأُمِّي أُمُّ سُلَيْمٍ خَلْفَنَا۔علیہ وسلم کے پیچھے اپنے گھر میں نماز پڑھی اور میری ماں حضرت ام سلیم ہمارے پیچھے تھیں۔اطرافه: ۳۸۰، ۸۶۰، ۸۷۱،۸، ٨٧٤، ١١٦٤۔تشریح الْمَرْأَةُ وَحْدَهَا تَكُونُ صَفًّا : باب کا عنوان ایک حدیث کے الفاظ میں ہے جو حضرت عائشہ سے مرفوعاً مروی ہے۔اَلْمَرْءَ ـةُ وَحْـدَهَا صَف ( فتح الباری جزء ثانی صفحه ۲۷۵) روایت نمبر ۷۲۷؛ روایت نمبر ۳۸۰ میں بھی گزر چکی ہے۔وہاں بجائے امی کے عجوز ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے مسئلہ مذکورہ کے لئے استدلال کیا گیا ہے۔حضرت ابن مسعود کی روایت آخِرُوهُنَّ حَيْثُ أَخَّرَ هُنَّ اللَّهُ (مصنف عبد الرزاق۔كتاب الصلاة۔باب شهود النساء الجماعة کے یہی معنی ہیں کہ انہیں پیچھے رکھو، جہاں اللہ نے ان کو پیچھے رکھا ہے۔یعنی اس موقع پر جہاں انہیں پیچھے رکھنا حالات کا تقاضا ہے۔اس کے یہ معنی نہیں کہ ہر جگہ ہی عورت کو پیچھے رکھنا چاہیے۔عورت کے لئے سہولت دی گئی ہے کہ اگر وہ اکیلی ہے تو تکمیل صف بندی کے لئے ضروری نہیں کہ وہ کسی مرد کے ساتھ کھڑی ہو۔