صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 127
صحيح البخاري - جلد ٢ ۱۲۷ باب ۷۷ ١٠ - كتاب الأذان إِذَا قَامَ الرَّجُلُ عَنْ يَسَارِ الْإِمَامِ وَحَوَّلَهُ الْإِمَامُ خَلْفَهُ إِلَى يَمِيْنِهِ تَمَّتْ صَلَاتُهُ اگر کوئی شخص امام کے بائیں کھڑ ا ہو اور امام اس کو اپنے پیچھے سے پھیر کر اپنے دائیں کر دے تو اس کی نماز مکمل ہو گئی ( یعنی اس کی نماز میں کمی نہ ہوگی ) ٧٢٦: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ :۷۲۶ قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا ، کہا : حَدَّثَنَا دَاوُدُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ داؤد نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عمرو بن دینار سے، كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ عمرو نے کریب سے جو کہ حضرت ابن عباس کے رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ آزاد کردہ غلام تھے۔کریب نے حضرت ابن عباس صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقُمْتُ رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔وہ کہتے تھے: میں نے عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى الله ایک رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی اور عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَأْسِي مِنْ وَرَائِي فَجَعَلَنِي میں آپ کے بائیں طرف کھڑا ہوا تو رسول اللہ صلی عَنْ يَمِيْنِهِ فَصَلَّى وَرَقَدَ فَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ اللہ علیہ وسلم نے پیچھے سے مرا سر پکڑا اور مجھے اپنی دائیں طرف کر لیا اور آپ نے نماز پڑھی اور سو گئے۔فَقَامَ وَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأَ۔اس کے بعد مؤذن آپ کے پاس آیا۔آپ اٹھے اور نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔اطرافه ،۱۱۷، ۱۳۸ ، ۱۸۳ ، ٦۹۷، ٦۹۸ ٦٩٩ ، ،۷۲۸، ۸۵۹، ۹۹۲، ۱۱۳۸، ٦، ٦٣١٦، ٠٧٤٥٢۲۱۵ ،۵۹۱۹ ،٤٥۷۲ ،١١٩٨، ٤٥٦٩، ٤٥٧٠، ٤٥٧١ تشریح: إِذَا قَامَ الرَّجُلُ عَنْ يَسَارِ الْإِمَامِ وَحَوَّ لَهُ الْإِمَامُ : باب نمبر ۵۸ کا عنوان الفاظ لَمُ تَفْسُدُ صَلوتُهُمَا ہے۔یعنی ان دونوں امام و مقتدی کی نماز فاسد نہیں ہوئی اور یہاں یہ عنوان ہے: تَمَّت صلوتہ یعنی مقتدی کی نماز پوری ہو گئی۔اس خفیف سے تصرف کے ساتھ مذکورہ بالا روایت دہرانے کی کیا ضرورت تھی۔اس سوال کا جواب یہ ہے کہ پہلے عنوان کا یہ مضمون ہے کہ ایک جگہ سے دوسری جگہ ہٹانے سے ان دونوں کی نماز میں کوئی رخنہ واقع نہیں ہوگا۔کیونکہ اس میں نماز کے ایک اہم رکن کی درستی مقصود ہے۔باجماعت نماز تب درست ہوتی ہے جب امام اور مقتدی اپنے اپنے مقام پر کھڑے ہوں۔جونہی وہ اس مقررہ مقام سے ادھر ادھر ہوں گے ان کی نماز ناقص ہوگی۔پس ایسا عمل جو ان کی نماز کی صحت اور درستی کا موجب ہو نماز کو فاسد بنانے والا نہیں کہلائے گا اور باب ۷۴ کا یہ مضمون