صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 126 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 126

سحيح البخاري - جلد ۲ ۱۲۶ ١٠ - كتاب الأذان سی جماعت کے شامل حال ہو تو ہر فرد اپنی استعداد کے مطابق الہی محبت کی بجلی گاہ بنتا ہے اور پھر افراد ایک دوسرے سے متاثر ہو کر اللہ تعالیٰ کی صفات سے ریکمین ہو جاتے ہیں۔اس تعلق میں دیکھئے باب ۸۹۸۷۔برخلاف اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم اور آپ کی سنت کی مخالفت نتیجہ افراد کو غضب الہی کا مورد بنادیتی ہے۔جو بعد میں بغض و عناد اور فتنہ و فساد کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَنْ تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمُ عَذَابٌ أَلِيمٌ (النور: ۲۴) یعنی چاہیے کہ جو اس رسول کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں اس سے ڈریں کہ ان کو اللہ کی طرف سے کوئی آفت یا دردناک عذاب نہ پہنچ جائے۔یہ نتیجہ اس گناہ کی انتہائی حد ہے اور ہر حکم کی خلاف ورزی خواہ وہ کیسا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو نتیجہ ظاہر کئے بغیر نہیں رہتی اور اس طرح چھوٹی چھوٹی خلاف ورزیاں مل کر ایک پہاڑ بن جاتی ہیں۔روایت نمبر ۵۳۰،۵۲۹ میں دمشق کی حالت سے متعلق حضرت انس کا قول گزر چکا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلی صدی کے اخیر میں بھی اہل مدینہ کی ظاہری حالت بہت حد تک درست تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نمونوں کا پاک اثر مدینہ میں قائم تھا۔اگلے دونوں بابوں میں بتایا گیا ہے کہ میں سیدھی رکھنے کے کیا معنی ہیں۔بَاب ٧٦ : إِلْرَاقُ الْمَنْكِبِ بِالْمَنْكِبِ وَالْقَدَمِ بِالْقَدَمِ فِي الصَّفَ صف میں مونڈھے سے مونڈھا اور قدم سے قدم ملانا وَقَالَ النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ رَأَيْتُ الرَّجُلَ اور حضرت نعمان بن بشیر نے کہا: میں نے دیکھا کہ ہم مِنَّا يُلْزِقُ كَعْبَهُ بِكَعْبِ صَاحِبِهِ۔میں سے ایک آدمی اپنے ساتھی کے ٹخنے سے اپنا ٹخنہ ملاتا تھا۔٧٢٥: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ قَالَ :۷۲۵ عمرو بن خالد نے ہم سے بیان کیا ، کہا : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ عَنِ زہیر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے حمید سے، حمید نے النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حضرت انسؓ سے ، حضرت انس نے نبی صلی اللہ علیہ أَقِيْمُوْا صُفُوْقَكُمْ فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: کہ اپنی صفیں وَرَاءِ ظَهْرِي وَكَانَ أَحَدُنَا يُلْزِقُ ٹھیک کرو۔میں تو تم کو اپنی پیٹھ کے پیچھے سے دیکھتا مَنْكِبَهُ بِمَنْكِبٍ صَاحِبِهِ وَقَدَمَهُ بِقَدَمِهِ ہوں۔ہم میں سے ایک اپنے ساتھی کے کندھے سے اپنا کندھا اور اس کے قدم سے اپنا قدم ملا یا کرتا تھا۔اطرافه ٤١٩ ،۷۱۸، ۷۱۹، ٧٢۳۰ ٠٧٤٢ ٠٦٦٤٤