صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 125 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 125

صحيح البخاري - جلد ۲ ۱۲۵ بَاب ٧٥ : إِثْمُ مَنْ لَّمْ يُتِمَّ الصُّفُوفَ اس شخص کا گناہ جو صفیں مکمل نہ کرے ١٠ - كتاب الأذان ٧٢٤: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ أَسَدٍ قَالَ ۷۲۴: معاذ بن اسد نے ہم سے بیان کیا، کہا، فضل أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى قَالَ أَخْبَرَنَا بن موسیٰ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے کہا: سعید بن عبید سَعِيْدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّائِيُّ عَنْ بُشَيْر بن طائی نے ہمیں بتایا۔انہوں نے بشیر بن بسیار انصاری يَسَارِ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ سے بشیر نے حضرت انس بن مالک سے روایت کی أَنَّهُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَقِيْلَ لَهُ مَا أَنْكَرْتَ مِنَّا کہ وہ مدینہ میں آئے اور ان سے دریافت کیا گیا کہ مُنْذُ يَوْمٍ عَهِدْتَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى الله جس زمانہ میں آپ نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا تھا عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا أَنْكَرْتُ شَيْئًا إِلَّا اس سے کون سی نئی بات آپ ہم میں پاتے ہیں؟ أَنَّكُمْ لَا تُقِيْمُونَ الصُّفُوْفَ۔انہوں نے جواب دیا: میں نے کوئی نئی بات نہیں پائی سوائے اس کے کہ تم صفیں ٹھیک نہیں رکھتے۔وَقَالَ عُقْبَةُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ بُشَيْرِ بْنِ عقبہ بن عبید نے بشیر بن سیار سے روایت کی کہ يَسَارٍ قَدِمَ عَلَيْنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكِ حضرت انس بن مالک اس (روایت) کے ساتھ الْمَدِينَةَ بِهَذَا۔تشریح: ہمارے پاس مدینہ میں آئے۔اِثْمُ مَنْ لَّمْ يُتِمَّ الصُّفُوفَ : جو روایت مسئلہ معنونہ سے استنباط کرنے کے لئے لائی گئی ہے۔اس میں نوعیت گناہ کی صراحت نہیں۔صرف اسی قدر بتایا گیا ہے کہ حضرت انس جب دمشق سے ایک مدت کے بعد مدینہ آئے تو انہوں نے دیکھا کہ اہل مدینہ مفیں سیدھی نہیں رکھتے۔یعنی صف بندی میں سنت نبوی آپر قائم نہیں رہے۔اس سے گناہ کی نوعیت ظاہر ہے۔قُلْ إِنْ كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ قُلْ أَطِيعُوا اللَّهَ وَالرَّسُوْلَ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْكَفِرِينَ (ال عمران :۳۳:۳۲) تو کہہ دے کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو اللہ تم سے محبت کرے گا۔اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔اور اللہ بہت بخشنے والا (اور ) بار بار رحم کرنے والا ہے۔تو کہہ دے اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی ؛ پس اگر وہ پھر جائیں تو یقینا اللہ کا فروں کو پسند نہیں کرتا۔یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اللہ تعالیٰ کی محبت اور گناہوں کی مغفرت کا موجب ہوتی ہے اور اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے روگردانی کفر کا سبب ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی محبت و اطاعت جب