صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 122
صحیح البخاری جلد ۲ ۱۲۲ ١٠ - كتاب الأذان بَاب ۷۲ : إِقْبَالُ الْإِمَامِ عَلَى النَّاسِ عِنْدَ تَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ صفیں سیدھی کرتے وقت امام کا لوگوں کی طرف متوجہ ہونا ۷۱۹ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ ابْنُ أَبِي رَجَاءِ ۷۱۹: احمد بن ابی رجاء نے ہم سے بیان کیا ، کہا : قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ معاویہ بن عمرو نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: زائدہ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ قَالَ حَدَّثَنَا بن قدامہ نے ہم سے بیان کیا انہوں نے کہا کہ حمید حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ حَدَّثَنَا أَنَسٌ قَالَ طویل نے ہم سے بیان کیا ۔ ( انہوں نے کہا:) أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ حضرت انس بن مالک ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَجْهِهِ فَقَالَ کہا : نماز کے لئے تکبیرا قامت ہوئی تو رسول اللہ صلی أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ وَتَرَاضُوا فَإِنِّي الله عليه وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اپنی صفیں ٹھیک کرو اور ایک دوسرے سے مل کر کھڑے أَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي۔ ہو۔ میں تم کو اپنی پیٹھ کے پیچھے سے دیکھتا ہوں ۔ اطرافه: ٤١٩، ۷۱۸، ۷۲۳، ۷۲۵ ٠٧٤٢ ٦٦٤٤۔ تشريح : إِقْبَالُ الْإِمَامِ عَلَى النَّاسِ عِنْدَ تَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ : مبین امام کا فر ہے کہ وہ اپنی نگرانی میں صفیں درست کرائے اور نظام اجتماعی کما حقہ قائم رکھے۔ ہماری نماز در حقیقت ایک مشق ہے۔ جس میں عملاً ہماری معنویات کی تربیت کی جاتی ہے۔ اس ضمن میں باب نمبر ۸۸ کی تشریح بھی دیکھئے۔ بَاب ۷۳ : الصَّفُ الْأَوَّلُ پہلی صف ۷۲۰ : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ مَالِكِ ۷۲۰ : ابو عاصم نے ہمیں بتایا کہ مالک سے مروی ہے۔ عَنْ سُمَةٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي انہوں نے کی سے ہمی نے ابو صالح سے، ابو صالح نے حضرت هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ابو ہریرہ سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وَسَلَّمَ الشُّهَدَاءُ الْغَرِقُ وَالْمَطْعُونُ نے فرمایا: (یہ بھی) شہید ہیں: ڈوب کر مرنے والے، طاعون وَالْمَبْطُونُ وَالْهَدِمُ ۔ سے مرنے والے اور پیٹ کی بیماری سے مرنے والے اور وہ جو کسی چیز کے گرنے سے دب کر مریں۔ اطرافه: ٦٥٣، ٢٨٢٩، ٥٧٣٣