صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 121
صحیح البخاري - جلد ۲ ۱۲۱ ١٠ - كتاب الأذان ۷۱۸ : حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا ۷۱۸ : ابو عمر نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبدالوارث عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسِ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبدالعزیز ( بن صہیب ) أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَقِيمُوا سے ، عبد العزیز نے حضرت انس سے روایت کی کہ الصُّفُوْفَ فَإِنِّي أَرَاكُمْ خَلْفَ ظَهْرِي۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صفیں ٹھیک رکھو۔ میں تمہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے دیکھتا ہوں ۔ اطرافه ٤١٩، ۷۱۹، ۷۲۳، ٧۲۵، ٧٤٢، ٦٦٤٤۔ تشریح : تَسْوِيَةُ الصُّفُوفِ : یہ ایک نہایت ضروری امر ہے۔ مگر آج کل مسلمان اس ارشاد کی قیل نہیں کرتے ۔ ظاہری نظم و نسق اور ربط و ضبط معنوی اتحاد و تقویت کا موجب ہوتا ہے۔ ظاہر و باطن جیسا کہ تشریح روایت نمبر ۶۳۶ میں بتایا جا چکا ہے۔ پہلو بہ پہلو کام کرتے اور ایک دوسرے سے متأثر ہوتے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حکیمانہ نظر اس اہم نکتہ کا خیال چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی ملحوظ رکھتی تھی۔ اَوْلَيُخَالِفَنَّ اللَّهُ بَيْنَ وُجُوهِكُمُ : اس امر کو نظر انداز کرنے سے جو برے نتائج پیدا ہو سکتے ہیں۔ان کی طرف آپ نے اپنے ان الفاظ میں توجہ دلائی ہے کہ اگر تم نے اس کا خیال نہ رکھا۔ تو اللہ تعالی تمہارے منہ ایک دوسرے کے خلاف کر دے گا۔ یعنی بجائے استقامت و اتحاد کے تمہارے درمیان تفرقہ اور انشقاق پیدا ہو جائے گا۔ یہ فقرہ بطور ایک محاورہ ہے۔ اس کے یہ معنی نہیں کہ منہ ایک دوسرے سے پھر جائیں گے۔ علامہ ابن حجر نے امام نووی کے حوالہ سے یہ مفہوم لیا ہے : يُوقِعُ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ وَاخْتِلَافَ الْقُلُوبِ یعنی اللہ تمہارے درمیان عداوت و بغض ڈال دے گا اور دل ایک دوسرے کے خلاف ہو جائیں گے۔ ایسے ہی کہتے ہیں کہ تَغَيَّرَ وَجُهُ فُلَانٍ عَلَی۔ اس کا منہ مجھے سے متغیر ہو گیا۔ امام ابن جوزی نے محاورہ کی بناء پر آیت مِنْ قَبْلِ أَنْ نَّطْمِسَ وُجُوهًا فَتَرُدَّهَا عَلَى أَدْبَارِهَا ۔ (النساء : ۴۸) کے یہی معنی کئے ہیں ۔ ( فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۲۶۹) روایت نمبر ۷۱۸ میں مذکورہ بالا حکم کی وجہ بیان کی گئی ہے: فَإِنِّي أَرَاكُمْ خَلْفَ ظَهْرِی۔ مزید تشریح کے لئے دیکھئے کتاب الصلوة باب ۴۰ روایت نمبر ۴۱۹، کتاب الاذان باب ۷۴، باب ۸۸ ۔