صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 120
صحیح البخاري - جلد ۲ ۱۲۰ ١٠ - كتاب الأذان لِعَائِشَةَ مَا كُنْتُ لَأُصِيْبَ مِنْكِ خَيْرًا ۔ يوسف والی عورتیں ہو۔ ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ اس پر حضرت حفصہ نے حضرت عائشہ سے کہا: میں تو تم سے کبھی بھلائی پانے کی نہیں۔ اطرافه: ١٩٨، ٦٦٤، ٦٦٥ ٦٧٩ ، ٦٨٣، ۱۲،۸۷، ۱۳، ۲۵۸۸، ۳۰۹۹ ۷۳۰۳ ،۵٣٣٨٤، ٤٤٤٢، ٤٤٤٥، ٧١٤ تشریح : إِذَا بَكَى الْإِمَامُ فِي الصَّلوۃ: یہ مسلہ بی اختلافی ہے کہ آیا نماز ہونے سے فاسد ہو جاتی ۔ ہے ۔ امام موصوف نے روایت نمبر ۶ اے سے استدلال کیا ہے کہ فاسد نہیں ہوتی۔ کیونکہ نبی صلی اللہ مل ہو جاتا ہے اور علیہ وسلم یہ جانتے تھے کہ حضرت ابوبکر نماز میں اتارا اتنا روتے ہیں کہ ان کے لئے قرآن مجید پڑھنا مشکل : باوجود اس علم کے آپ نے انہیں کو امام مقرر فرمایا۔ ایسا ہی حضرت عمرؓ سے متعلق بھی یہی بیان کیا جاتا ہے کہ آپ مذکورہ بالا آیت پر بے اختیار رو پڑے۔ یہاں تک کہ ہچکیاں بندھ گئیں۔ حوالہ مذکور کے لئے دیکھئے فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۲۶۷۔ پوری آیت یہ ہے: قَالَ إِنَّمَا أَشْكُوا بَشِّى وَ حُزْنِى إِلَى اللَّهِ وَاَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ (سورة يوسف : ۸۷) اس کا ترجمہ یہ ہے: حضرت یعقوب نے کہا: میں اپنی پریشانی اور غم کی فریاد صرف اللہ ہی کے حضور کرتا ہوں اور میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ علم رکھتا ہوں جو تم نہیں رکھتے۔ بَاب ۷۱ : تَسْوِيَةُ الصُّفُوفِ عِنْدَ الْإِقَامَةِ وَبَعْدَهَا تکبیر اقامت کے وقت اور اس کے بعد صفیں سیدھی کرنا ۷۱۷ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ بْنُ ۷۱۷: ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے ہم سے عَبْدِ الْمَلِكِ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ بیان کیا ، کہا : شعبہ نے ہم سے بیان کیا ، کہا عمرو بن أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ مرہ نے مجھے بتایا کہ میں نے سالم بن ابی جعد سے سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ قَالَ سَمِعْتُ سنا۔ سالم نے کہا: میں نے حضرت نعمان بن بشیر کو یہ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَقُوْلُ قَالَ النَّبِيُّ کہتے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنی صفیں صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَتُسَوُّنَ صُفُوْفَكُمْ ضرور سیدھی رکھا کرو۔ ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے منہ أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللَّهُ بَيْنَ وُجُوهِكُمْ۔ ایک دوسرے سے پھیر دے گا۔