صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 119
صحیح البخاري - جلد ۲ ۱۱۹ ١٠ - كتاب الأذان وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ۔ (يوسف : ۸۷) میں تو اپنے رنج والم کی صرف اللہ کے حضور فریاد کرتا ہوں۔ } ٧١٦ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنَا ۷۱۶: اسماعیل نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک بن مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ انس نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام بن عروہ سے، عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِيْنَ أَنَّ ہشام نے اپنے باپ سے ۔ ان کے باپ نے رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حضرت عائشہ ام المومنین سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیماری میں فرمایا: ابوبکر ن ابوبكر فِي مَرَضِهِ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاس سے کہوکہ لوگو کو نماز پڑھائیں۔ حضرت عائشہ کہتی قَالَتْ عَائِشَةُ قُلْتُ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ إِذَا قَامَ تھیں کہ میں نے آپ سے کہا کہ اگر حضرت ابو فِي مَقَامِكَ لَمْ يُسْمِعِ النَّاسَ مِنَ آپ کی جگہ کھڑے ہوئے تو وہ بسبب رونے کے الْبُكَاءِ فَمُرْ عُمَرَ فَلْيُصَلِّ { بِالنَّاسِ} لوگوں کو نہ سنا سکیں گے۔ اس لئے آپ حضرت عمر فَقَالَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ لِلنَّاسِ سے فرمائیں کہ وہ (لوگوں کوسلم نماز پڑھائیں۔ قَالَتْ عَائِشَةُ { فَقُلْتُ } لِحَفْصَةَ قُولِي آپؐ نے فرمایا: ابوبکر سے کہو کہ کہو کہ لوگوں کو نماز لَهُ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ إِذَا قَامَ فِي مَقَامِكَ لَمْ پڑھائیں۔ حضرت عائشہ کہتی تھیں میں نے نے حضرت يُسْمِعِ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ فَمُرْ عُمَرَ : حفصہ سے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کرو کہ حضرت ابوبکر اگر آپ کی جگہ کھڑے ہوئے فَلْيُصَلِّ لِلنَّاسِ فَفَعَلَتْ حَفْصَةُ فَقَالَ تو بوجہ رونے کے لوگوں کو نہیں سناسکیں گے۔ اس لئے رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ آپ حضرت عمرؓ سے فرمائیں کہ وہ لوگوں کو نماز إِنَّكُنَّ لَأَنَتُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ مُرُوا أَبَا پڑھا ئیں ۔ چنانچہ حضرت حفصہ نے ایسا ہی کیا۔ بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ لِلنَّاسِ قَالَتْ حَفْصَةُ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : چپ رہو۔ تم تو لفظ بالنَّاسِ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے۔ ( فتح الباری جزء ثانی حاشیہ صفحہ ۲۶۷) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔ لفظ ”فَقُلْتُ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے۔ ( فتح الباری جزء ثانی حاشیہ صفحہ ۲۶۷) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔