صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 118 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 118

صحيح البخاري - جلد ٢ ١٠ - كتاب الأذان ٧١٥: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ قَالَ :۷۱۵ ابو الولید نے ہم سے بیان کیا، کہا : شعبہ نے حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ إِبْرَاهِيْمَ عَنْ ہمیں بتایا۔انہوں نے سعد بن ابراہیم سے، سعد أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ صَلَّی نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت ابو ہریرہ سے النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ روایت کی۔انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رَكْعَتَيْنِ فَقِيْلَ صَلَّيْتَ رَكْعَتَيْنِ فَصَلَّی ظہر کی نماز دورکعت پڑھی۔تو آپ سے عرض کیا گیا رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ کہ آپ نے دو ہی رکعتیں پڑھی ہیں۔تو آپ نے دو رکعتیں اور پڑھیں اور پھر آپ نے سلام پھیرا۔اس۔کے بعد آپ نے دو سجدے کئے۔اطرافه ،٤۸۲، ۷۱٤، ۱۲۲۷، ۱۲۲۸، ۱۲۲۹، ٦٠٥۱، ٧٢٥٠۔: تشریح: هَل يَأْخُذُ الْإِمَامُ إِذَا شَكَ بِقَولِ النَّاسِ : فقہاء کے درمیان یہ ھی اختلاف ہے کہ امام سجده محض شک پر کرے یا یقین ہونے کے بعد۔امام شافعی کا مذہب یہ ہے کہ یقین ہونے پر۔چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز اسی وقت دہرائی جب لوگوں کی تصدیق پر آپ کو یقین ہو گیا تھا۔ابوداؤد نے حضرت ابوہریرہ سے یہ الفاظ نقل کئے ہیں: وَلَمْ يَسْجُدُ سَجُدَتَي السَّهْوِ حَتَّى يَقْنَهُ اللَّهُ ذَلِكَ۔(ابو داؤد - كتاب الصلوة - باب السهو في السجدتين) آپ نے اس وقت تک سہو کے دو سجدے نہیں کئے جب تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو یقینی علم نہیں دیا کہ آپ بھول گئے ہیں۔غرض محض شک پر سجدہ سہو کرنے کی ضرورت نہیں۔امام موصوف نے مسئلہ کے اختلافی ہونے کی وجہ سے استفتاء کا جواب حذف کر دیا ہے۔باب ٧٠: إِذَا بَكَى الْإِمَامُ فِي الصَّلَاةِ جب امام نماز میں روئے وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادِ سَمِعْتُ اور عبداللہ بن شداد کہتے تھے : میں نے حضرت عمر کی نَشِيْجَ عُمَرَ وَأَنَا فِي آخر ہچکیاں سنیں اور میں آخری صف میں تھا۔انہوں نے الصُّفُوْفِ يَقْرَأُ إِنَّمَا أَشْكُو بَتِّي یہ پڑھا تھا: إِنَّمَا اَشْكُوا بَنِى وَحُزْنِي إِلَى اللهِ۔فتح الباری مطبوعہ بولاق میں سعید کی جگہ سعد مذکور ہے۔(فتح الباری جزء ثانی حاشیہ صفحہ ۲۶۶) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔