صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 117 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 117

حيح البخاري - جلد ۲ 112 ١٠ - كتاب الأذان لَهُمْ تَقَدَّمُوا فَاتَمُوا بِى وَلْيَأْتُمْ بِكُمْ مَنْ بَعْدَكُمْ۔(مسلم، كتاب الصلاة باب تسوية الصفوف واقامتها) يعني ني صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ آپ کے صحابہ فاصلہ پر ہیں۔ممکن ہے کہ وہ رکوع و سجود میں آپ کی اتباع نہ کرسکیں۔اس لئے آپ نے فرمایا: آگے ہو جاؤ اور تم میری اتباع کرو اور تمہاری اتباع وہ کریں جو تمہارے پیچھے ہیں۔امام بخاری نے جس روایت سے استدلال کیا ہے وہ روایت نمبر ۶۸۴۶۶۴ میں گزر چکی ہے۔ان کی تشریح دیکھی جائے، وہاں بتایا جا چکا ہے کہ افاقہ محسوس کرنے کا واقعہ آخری واقعہ ( یعنی پردہ اُٹھا کر دیکھنے کے واقعہ ) سے پہلے کا ہے۔بَاب ٦٩ : هَلْ يَأْخُذُ الْإِمَامُ إِذَا شَكٍّ بِقَوْلِ النَّاسِ جب امام کو شک ہو تو کیا وہ لوگوں کے کہنے پر عمل کرے؟ ٧١٤: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ :۷۱۴: عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا۔عَنْ مَّالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي انہوں نے مالک بن انس سے، مالک نے ایوب بن تَمِيْمَةَ السَّخْتِيَانِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ البى تميمه سختیانی سے، ایوب نے محمد بن سیرین سے، سِيْرِيْنَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ابن سیرین نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی کہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ مِنَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو ہی رکعتیں پڑھ کر اثْنَتَيْنِ فَقَالَ لَهُ ذُو الْيَدَيْنِ أَقَصُرَتِ سلام پھیر دیا۔تو ذوالیدین نے آپ سے کہا: یا رسول الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيْتَ يَا رَسُوْلَ اللهِ فَقَالَ اللہ ! کیا نماز کم ہوگئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا ذوالیدین أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ فَقَالَ النَّاسُ نَعَمْ نے ٹھیک کہا ہے ؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں تو رسول اللہ فَقَامَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آخری دورکعتیں پڑھیں۔فَصَلَّى اثْنَتَيْنِ أُخْرَيَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ كَبَّرَ پھر آپ نے سلام پھیرا۔اس کے بعد الله اكبر فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُوْدِهِ أَوْ أَطْوَلَ۔کہا اور سجدہ کیا اسی طرح کہ جس طرح آپ نے پہلا سجدہ کیا تھایا اس سے کسی قد رلمبیا۔اطرافه ٤٨٢، ٧١٥ ،۱۲۲۷، ۱۲۲۸، ۱۲۲۹، ٦٠٥۱، ٧٢٥٠۔