صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 114
صحيح البخاری جلد ۲ ۱۱۴ ١٠ - كتاب الأذان وَأَبُو بَكْرِ يُسْمِعُ النَّاسَ التَّكْبِيرَ۔آپ نے انہیں اشارہ کیا کہ نماز پڑھاتے رہیں لیکن حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹ گئے اور نبی ﷺ ان کے پہلو میں بیٹھ گئے اور حضرت ابو بکر لوگوں کو آپ کی تکبیر سناتے تھے۔تَابَعَهُ مُحَاضِرٌ عَنِ الْأَعْمَشِ۔( عبداللہ بن داؤد کی طرح) محاضر نے بھی یہ حدیث اعمش سے روایت کی ہے۔اطرافه ٦٦٤،١٩٨، ٦٦٥ ٦٧٩، ٦٨٣، ٦٨٧ ، ٧١٣، ۷۱٦، ۲۵۸۸، ۳۰۹۹ ۷۳۰۳ ،٣٣٨٤ ٤٤٤٢، ٤٤٤٥، ٥٧١٤ تشریح: إِذَا صَلَّى ثُمَّ أُمَّ قَوْمًا : یہ مسئلہ بھی اختلافی ہے۔جیسا کہ عنوان باب سے ظاہر ہے۔حضرت معاذ بن جبل کی دوسری نماز نفل کی حیثیت رکھتی تھی نہ کہ فرض کی۔مگر مقتدیوں کی نماز فریضہ ہوتی تھی۔جیسا کہ بعض مستند روایتوں میں یہ الفاظ ہیں: هِيَ لَهُ تَطَوُّعٌ وَلَهُمْ فَرِيضَةٌ ( فتح الباری جزء ثانی صفحه ۲۵۴) نفل پڑھنے والے کے پیچھے فرض پڑھنے والوں کی نماز کیسے ہو سکتی ہے۔اس سوال کی تفصیلی بحث فتح الباری جزء ثانی صفحه ۴ ۲۵ ( زیر شرح باب ۶۰) میں دیکھی جائے۔گو حضرت عبداللہ بن عمر کی روایت لَا تُصَلُّوا الصَّلوةَ فِي الْيَوْمِ مَرَّتَيْنِ۔اس کے خلاف نقل کی جاتی ہے۔لیکن برخلاف اس کے یہ پیش کیا جاتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو آدمیوں سے جنہوں نے آپ کے ساتھ نماز نہیں پڑھی تھی، فرمایا تھا: إِذَا صَلَّيْتُمَا فِي رِحَالِكُمَا ثُمَّ اتَيْتُمَا مَسْجِدَ جَمَاعَةٍ فَصَلِّيَا مَعَهُمْ فَإِنَّهَا لَكُمَا نَافِلَةٌ (ترمذى - كتاب الصلاة - باب ما جاء في الرجل يصلى وحده ثم يدرك الجماعة) {جب تم اپنے گھروں میں نماز پڑھ چکو پھر جماعت کی مسجد میں آؤ تو ان کے ساتھ نماز پڑھ لو۔وہ تمہاری نفل نماز ہے۔} اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نماز نفل اور دوسری نماز فریضہ تھی۔امام بخاری نے اسی لئے عنوانِ باب میں یہ مسئلہ درج کر کے اِذَا کا جواب مقدر کر دیا ہے اور اس کے بعد دو اور ابواب قائم کئے ہیں جن میں ایک ہی واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ابواب کے عنوان مختلف ہیں۔مگر دونوں کا مفہوم ایک ہے کہ جب امام کی آواز مقتدیوں کو نہ پہنچ سکتی ہو تو ایک مقتدی امام کی تکبیر پر بلند آواز سے تکبیر کہے اور دوسرے اس کی اقتداء میں نماز کے ارکان بجالائیں۔اسی طرح وہ شخص جو ایک جگہ نماز با جماعت پڑھ چکا ہو دوسری جگہ کے لوگوں کی امامت کر سکتا ہے اور اس صورت میں اس کی حیثیت وہی ہوگی جو حضرت ابو بکر کی تھی۔جبکہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں دوسروں کو نماز پڑھائی تھی۔غالباً یہی مماثلت مد نظر رکھتے ہوئے باب نمبر ۶۶ کے بعد باب نمبر ۶۷ ۶۸ قائم کئے گئے ہیں اور دوسرے باب میں جواز کی صورت واضح کرنے کے لئے حضرت ابوسعید خدری کی روایت کا حوالہ دیا ہے، جو امام مسلم نے اپنی صحیح میں نقل کی ہے۔امام بخاری جب کوئی باب اِذَا سے قائم کر کے اس کا جواب مقدر کرتے ہیں تو اس میں احتیاط کا پہلو مد نظر رکھ کر ترتیب ابواب میں اپنی رائے ظاہر کرتے ہیں۔جو حصہ نماز صحابہ کرام نے حضرت ابوبکر کی اقتداء میں پڑھا تھا اور جو نماز