صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 99 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 99

صحيح البخاری جلد ۲ ٩٩ ١٠ - كتاب الأذان أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكِ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ ابوتیاح سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت انس بن صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي ذَرٍ اسْمَعْ مالک سے سنا۔وہ کہتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وَأَطِعْ وَلَوْ لِحَبَشِي كَأَنَّ رَأْسَهُ زَبَيْبَةٌ حضرت ابوذر سے فرمایا: سنواورفرمانبرداری کرو۔خواہ حبشی کی ہو جس کا سر گو یا منقیٰ کا دانہ ہے۔اطرافه: ٦٩٣، ٧١٤٢۔تشریح: إِسْمَعُ وَاطِعُ وَلَوْ لِحَبَشِيَ كَأَنَّ رَأْسَهُ زَبِيبَة : سابق مسلہ پر سوال اٹھتاہے کہ اگر کوئی ایسا شخص امامت کرتا ہو جو جماعت میں تفرقہ کا موجب بن رہا ہے یا کسی بدعت کا موجد ہے تو کیا اس کی اقتداء میں نماز پڑھنا جائز ہے؟ اس مسئلہ میں بھی دو آراء ہیں۔جن کی طرف عنوانِ باب میں اشارہ کیا گیا ہے۔ان میں سے ایک حسن بصری کی رائے ہے جس کی تائید حضرت عثمان کے عمل و قول سے ہوتی ہے اور ایک امام زہری کی۔اُن کی رائے میں ہیجڑے کے پیچھے نماز جائز نہیں، جو اس وجہ سے فتنہ کا موجب بن سکتا ہے کہ وہ جنس لطیف کی صورت و شکل رکھتا ہے۔یہ دونوں نکتہ خیال افراط و تفریط کی حد تک پہنچے ہوئے ہیں۔اس بارے میں امام بخاری نے ایک لطیف فیصلہ فرمایا ہے اور وہ یہ کہ حضرت عثمان نے جو خلیفہ وقت تھے، عبید اللہ بن عدی بن خیار کو اجازت دی تھی کہ وہ نماز باغی امام کے پیچھے پڑھتے رہیں۔ان کی یہ نماز جائز و مقبول ہے۔اس وجہ سے کہ وہ امام وقت کی اطاعت میں پڑھی گئی ہے۔آنحضرت صلی اللہ کے ارشادِ إِسْمَعُ وَأَطِعُ وَلَوْ لِحَبَشِي كَأَنَّ رَأْسَهُ زَبِيْبَةٌ سے یہی مراد ہے کہ اگر خلیفہ وقت کی ممانعت ہوتی تو اس صورت میں اقتداء قطعا جائز نہ ہوتی۔مقتدی خود اپنی مرضی سے امام جماعت کے پیچھے نماز پڑھنا نہ چھوڑ ہیں۔خواہ ان کی رائے کیسی ہی مخالف کیوں نہ ہو۔حضرت ابوذرغفاری کو اموال وغیرہ امور میں حضرت معاویہؓ سے اختلاف رائے ہوا اور جب نہ سمجھے تو وہ مدینہ بھیجے گئے۔حضرت عثمان کے سمجھانے پر بھی نہ سمجھے تو انہوں نے خلیفہ وقت سے اجازت لی کہ ربذہ مقام کو چلے جائیں۔(بخارى كتاب الزكاة - باب ما أدّى زكاته فليس بكنز - روایت نمبر ۱۴۰۶) انہیں یاد آیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا تھا کہ جب سلع پہاڑ تک مدینہ پھیل جائے تو پھر مدینہ میں نہ رہنا۔حضرت عثمان نے انہیں اجازت دی اور کہا کہ مدینہ میں وقتا فوقتا آتے رہنا۔جس کی انہوں نے تعمیل کی۔یہ واقعہ بتا تا ہے کہ باوجود اختلاف رکھتے ہوئے انہوں نے اطاعت سے سر نہ پھیرا۔لیکن جب امام وقت کسی کی اقتداء سے ممانعت فرما دے تو وہ امام خواہ کیسا ہی مدعی اسلام ہو اس کے پیچھے نماز نہیں ہوسکتی۔بلکہ اگر خلیفہ وقت اس امام کے خلاف جہاد کا بھی حکم دے تو مقتدیوں پر اس سے جہاد فرض ہو جائے گا۔حضرت ابو بکر اور حضرت علی کے عہد خلافت میں اس کی مثالیں ملتی ہیں۔مسلمانوں کے شدید تفرقہ کے زمانے میں ایک امام کے مبعوث ہونے کی پیشگوئی کی گئی ہے جو حکم عدل کے لقب سے موسوم کیا گیا ہے۔(بخاری کتاب الانبياء - باب نزول عیسی ابن مریم - روایت نمبر ۳۲۴۸) اس کے