صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 100 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 100

صحيح البخاری جلد ۲ ۱۰۰ ١٠ - كتاب الأذان یہی معنی ہیں کہ اس کا فیصلہ ناطق اور اس کی اتباع لازمی ہوگی ۔ کیونکہ اس کی اتباع کے بغیر مسلمانوں کے درمیان تفرقہ مٹنے کی کوئی اور صدر اور صورت نہیں۔ وہ حکم ہو کر ہر فرقہ کی مرضی کے مطابق یہ فیصلہ نہیں کرے گا کہ وہ سب مسلمان ہیں۔ بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس صریح فتویٰ کا اعلان کرے گا کہ كُلُّهُمْ فِي النَّارِ إِلَّا مِلَّةً وَاحِدَةً۔ (ترمذى - كتاب الإيمان - باب ما جاء في افتراق هذه الأمة) آگ سے نجات پانے والا گروہ وہی ہو گا جو اپنی خواہشات کی اتباع چھوڑ کر اس حکم عدل کی آواز پر لبیک کہے گا اور امام کی اس اطاعت و اتباع کی وجہ سے جماعت کی تعریف میں شامل ہوگا۔ جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وَهِيَ الْجَمَاعَةُ (ابو داؤد - كتاب السنة - باب شرح السنة) فرما کراس ناجی فرقہ کو اس مبارک نام سے یاد فرمایا ہے۔ غرض اسلام نے امام جماعت کی مبارک شخصیت کو افراد کے رحم پر نہیں چھوڑا۔ ورنہ روزانہ امام معطل ہوتے رہتے اور افراد کی باغیانہ طبیعت ہر روز ایک نیا امام اپنے لئے تجویز کرتی۔ اسی لئے اسلامی جماعتوں کو تفرقہ اور فتنہ و فساد سے باز رکھنے کے لئے تمام آئمہ مساجد بھی امام الوقت کے تحت رکھے گئے ہیں۔ یہ خلاصہ ہے عنوان باب کا ۔ یعنی اِسْمَعُ وَاطِعُ وَلَوْ لِحَبَشِي كَأَنَّ رَأْسَهُ زَبِيبَةٌ۔ بَاب ٥٧ يَقُوْمُ عَنْ يَمِينِ الْإِمَامِ بِحِذَائِهِ سَوَاءً إِذَا كَانَا اثْنَيْنِ جب دو ہی ہوں تو ( مقتدی) امام کے دائیں طرف اس کے پہلو میں برابر کھڑا ہو ٦٩٧ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ۶۹۷ : سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ قَالَ شعبہ نے حکم سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا، کہا: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ میں نے سعید بن جبیر سے سنا۔ وہ حضرت ابن عباس رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ بِتُ فِي بَيْتِ رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے تھے۔ انہوں نے کہا: خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ میں اپنی خالہ حضرت میمونہ کے گھر میں ایک رات سویا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ثُمَّ جَاءَ پڑھی۔ پھر آئے اور ۔ ، اور چار رکعتیں پڑھیں۔ پڑھیں۔ پھر آپ فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ ثُمَّ نَامَ ثُمَّ قَامَ ہو گئے۔ پھر اس کے بعد اٹھے۔ میں بھی آیا اور آپ فَجِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَجَعَلَنِي کے بائیں طرف کھڑا ہو گیا۔ آپ نے مجھے اپنی عَنْ يَمِينِهِ فَصَلَّى خَمْسَ رَكَعَاتٍ ثُمَّ دائیں طرف کر دیا۔ آپ نے پانچ رکعتیں پڑھیں ۔ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ نَامَ حَتَّى سَمِعْتُ پھر دور کعتیں پڑھیں۔ پھر سو گئے ۔ یہاں تک کہ میں