صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 98 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 98

صحيح البخاری جلد ۲ ٩٨ باب ٥٦ : إِمَامَةُ الْمَفْتُوْنِ وَالْمُبْتَدِعِ فتنہ انگیز اور بدعتی کا امام ہونا ١٠ - كتاب الأذان وَقَالَ الْحَسَنُ صَلِّ وَعَلَيْهِ بِدْعَتُهُ اور حسن ( بصری) نے کہا: تم نماز پڑھ لو اور اس کی بدعت کا وبال اس پر ہوگا۔٦٩٥ : قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ وَقَالَ لَنَا :۶۹۵ ابوعبداللہ نے کہا اور محمد بن یوسف نے ہم مُحَمَّدُ بْنُ يُوْسُفَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ سے کہا اور اوزاعی نے ہم سے بیان کیا، (کہا : ) حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ زُہری نے ہمیں بتایا۔انہوں نے حمید بن عبدالرحمن الرَّحْمَنِ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَدِي بْنِ سے حمید نے عبید اللہ بن عدی بن خیار سے روایت خِيَارٍ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ کی کہ وہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس اللهُ عَنْهُ وَهُوَ مَحْصُورٌ فَقَالَ گئے اور وہ محصور تھے اور کہا کہ آپ تو مسلمانوں کے رَضِيَ إِنَّكَ إِمَامُ عَامَّةٍ وَنَزَلَ بِكَ مَا نَرَى امام ہیں اور جو مصیبت آپ پر آپڑی ہے وہ ہم دیکھ وَيُصَلِّي لَنَا إِمَامُ فِتْنَةٍ وَنَتَحَرَّجُ فَقَالَ رہے ہیں اور فتنہ کا سرغنہ ہمیں نماز پڑھاتا ہے اور یہ الصَّلَاةُ أَحْسَنُ مَا يَعْمَلُ النَّاسُ فَإِذَا ہم پر شاق ہے تو انہوں نے کہا: نماز ہی سب سے بہتر أَحْسَنَ النَّاسُ فَأَحْسِنُ مَعَهُمْ وَإِذَا عمل ہے جو لوگ کرتے ہیں۔اس لئے جب لوگ اچھا کام کریں تو تم بھی ان کے ساتھ اچھا کام کرو اور جب وہ برا کام کریں تو تم ان کی برائی سے الگ رہو۔وَقَالَ الزُّبَيْدِيُّ قَالَ الزُّهْرِيُّ لَا نَرَى اور زبیدی نے کہا: زہری کہتے تھے کہ ہماری أَنْ يُصَلَّى خَلْفَ الْمُخَنَّثِ إِلَّا مِنْ رائے نہیں کہ ہیجڑے کے پیچھے نماز پڑھی جائے۔ضَرُوْرَةٍ لَّا بُدَّ مِنْهَا۔سوائے اس کے کہ کوئی ایسی مجبوری ہو کہ جس سے أَسَاءُوْا فَاجْتَنِبْ إِسَاءَتَهُمْ۔کوئی چارہ نہیں۔٦٩٦: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ :۲۹۶ محمد بن ابان نے ہم سے بیان کیا ، ( کہا:) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي التَّيَّاح غندر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے