صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 97 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 97

صحيح البخاری جلد ۲ ۹۷ ١٠ - كتاب الأذان تشریح: إِذَا لَمْ لَمْ يُتِمَّ الْإِمَامُ : یعنی اگر کسی وجہ سے امام کی نماز ناقص ہو تو کیا مقتدیوں کی نماز بھی بسبب اس نقص کے فاسد ہوگی۔ امام کی نماز میں نقص پیدا ہونے کا فیصلہ شریعت نے امام پر چھوڑا ہے نہ کہ مقتدیوں پر ۔ مقتدیوں کے سمجھنے اور کہنے کے باوجود اگر وہ فیصلہ کرتا ہے کہ اس میں نقص پیدا نہیں ہوا تو ان کا فرض ہے کہ وہ اس کی اقتدا کریں ۔ حَدَثِ أَصْغَر (یعنی خروج ریح و بول و براز ) سے وضو ٹوٹنے پر سب کا اتفاق ہے کہ امام نماز توڑ دے۔ مقتدی نماز پڑھتے رہیں۔ ان کی نماز درست ہوگی اور امام نماز دوبارہ پڑھے۔ حَدَثِ اَكْبَر (جنابت) سے متعلق تین مذاہب ہیں۔ امام ابو حنیفہ کے نزدیک نماز درست نہیں۔ امام مالک کے نزدیک درست ہے جبکہ وہ بھول جائے۔ امام شافعی کے نزدیک مطلق درست ہے، خواہ امام بھولے یا اُسے یاد ہو۔ فَإِنْ أَصَابُوا فَلَكُمْ وَلَهُمْ وَإِنْ أَخْطَاوُا فَلَكُمْ وَعَلَيْهِمْ ( مسند احمد بن قبل- مسند ابی ہریرة - جز ۲۰ - صفحه ۳۵۵) اگر ائمہ راستی پر ہوئے تو اس کا ثواب تم کو اور انہیں ہوگا اور اگر انہوں نے خطا کی تو تمہیں ثواب اور ان پر وبال ۔ اس مسئلہ کے اختلافی ہونے کی طرف توجہ دلانے کے لئے باب کا عنوان اذا سے شروع کیا گیا ہے، جو شرطیہ ہے۔ امام شافعی نے روایت نمبر ۶۳۹ سے بھی استدلال کیا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اشارہ کرنے پر (فَمَكَنَا عَلَى هَيْئَتِنَا) ہم جیسے تھے کھڑے رہے۔ یعنی نماز نہیں چھوڑی۔ تکبیرا قامت ہو چکی تھی لوگ صفیں باندھ کر کھڑے تھے۔ اس روایت کی بعض سندوں میں آتا ہے کہ تکبیر تحریمہ بھی ہو چکی تھی ۔ یہ سب نماز کے ابتدائی ارکان ہیں۔ روایت نمبر ۲۹۴ سے بھی امام موصوف نے یہی استدلال کیا ہے۔ اگر چہ بعض علماء کا یہ خیال ہے کہ اِنْ اَخْطَأوا میں خطاء نسیان ہے نہ خطاء عمد۔ مگر روایت کے الفاظ مطلق ہیں اور ایسے امور میں یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ آیا امام عمد ا غلطی پر اصرار کر رہا ہے یا بھول کر اور احتیاط اسی بات میں ہے کہ مقتدیوں کو امام کے برخلاف بدظنیوں اور فتنہ و فساد کا موقع نہ دیا جائے۔ ایسے امور میں شریعت کے فتوی کی بنیاد ظاہری حالات پر رکھنا مناسب ہے۔ اس میں کسی کو بھی کلام نہیں کہ امام و مقتدی کی معنویات کے درمیان ایک صحیح رابطہ کی ضرورت ہے۔ جس سے ان کی معنویات ایک دوسرے سے متاثر ہوتی ہیں۔ اسلام امامت کا نصب العین ان الفاظ میں قرار دیتا ہے: وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا۔ (الفرقان: ۷۵) یعنی (اے ہمارے رب !) ہمیں متقیوں کا امام بنا۔ یعنی ہمیں تقوی کے اعلیٰ مقام پر رکھیو۔ متقیوں کا امام تقویٰ میں بھی اُن کا امام ہونا چاہیے۔ یہ وہ مقصد اعلیٰ ہے جس کے حاصل کرنے کے لئے امام ، امام کو دعا مانگنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ایت کی گئی ہے۔ مقتدیوں کا کام نہیں کہ وہ امام کے تقویٰ کو اپنی جرح جرح و قدح اور بحث و تمحیص کا موضوع بنائیں ۔ ان کا کام شریعت حقہ میں اس کی اقتداء کرنا ہے۔ یہ مفہوم ہے مذکورہ بالا ارشاد نبوی کا اور اس ہدایت کو ہمیشہ ملحوظ رکھنا چاہیے۔