صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 96
صحيح البخاری جلد ۲ ۹۶ ١٠ - كتاب الأذان اسلام کے طفیل اس ادنی طبقہ کے لوگوں نے بھی دنیاوی و دینی ترقیاں حاصل کی ہیں، جو آج طبقہ رذیلہ یا اچھوت کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔وَلَدُ الْبَغِي: ولد الحرام کا احادیث میں کوئی ذکر نہیں۔یہ مسئلہ بھی قیاسی ہے۔اس کو اپنے اسباب پیدائش سے متعلق کوئی اختیار نہیں۔اگر وہ نیک اور صاحب علم و فضل ہے تو اس کی امامت درست ہے جہاں تک ظاہری فتویٰ کا تعلق ہے۔لیکن تقومی کچھ اور احتیاطیں بھی چاہتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی سنت بھی جو نبیوں کے انتخاب سے متعلق ہے یہی ظاہر کرتی ہے: الرُّسُلُ تُبْعَثُ فِي نَسَبِ قَوْمِهَا ( روایت نمبر ۶) کہ ان کی بعثت قوم کے شریف خاندان میں سے ہوتی ہے۔اِنِ اسْتُعْمِلَ حَبَشِيٌّ : اگر حبشی بھی امیر بنایا جائے تو تم اس کی اطاعت کرو۔اس سے امامت کا استدلال قیاسا کیا گیا ہے۔خلیفہ وقت ہی اصل میں امام ہوتا ہے۔پس اس کی طرف سے امیر مقرر کئے جانے کے بعد اس کی اطاعت لازمی ہو جاتی ہے۔وَلَا يُمْنَعُ الْعَبُدُ مِنَ الْجَمَاعَةِ بِغَيْرِ عِلَّةٍ: عنوانِ باب میں غلام سے متعلق یہ شرط لگائی گئی ہے کہ وہ بغیر کسی وجہ سے باجماعت نماز سے نہ روکا جائے۔باجماعت نماز پڑھنا فرض ہے اور حقوق اللہ کو مقدم رکھنا ضروری۔سوائے اس کے کہ ضرورت حقہ اس کو گھر رہنے پر مجبور کرے۔مثلاً مالک کا گھر ایسے مقام پر واقع ہو جہاں خدشہ ہو، مالک کی غیر حاضری میں غلام یا خادم کے لئے جائز نہیں کہ گھر خالی چھوڑ کر جماعت میں شریک ہونے کے لئے مسجد کو چلا جائے۔ایسے مخصوص حالات مجبوری میں مالک اس کو روک سکتا ہے ورنہ نہیں۔بَاب ٥ ٥ : إِذَا لَمْ يُتِمَّ الْإِمَامُ وَأَتَمَّ مَنْ خَلْفَهُ جب امام اپنی نماز پوری نہ کرے اور وہ جو اُس کے پیچھے ہوں پوری کر لیں ٦٩٤: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلِ :۶۹۴ فضل بن سہل نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى حسن بن موسیٰ اشیب نے ہم سے بیان کیا، کہا: الْأَشْيَبُ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عبد الرحمن بن عبد اللہ بن دینار نے ہم سے بیان کیا۔عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ انہوں نے زید بن اسلم سے، زید نے عطاء بن سیار عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ سے، عطاء نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی کہ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (یہ امام ) تم کو نماز پڑھاتے ہیں۔اگر ٹھیک پڑھیں گے تو تمہیں يُصَلُّوْنَ لَكُمْ فَإِنْ أَصَابُوْا فَلَكُمْ وَإِنْ ثواب ہوگا اور اگر غلطی کریں گے تو بھی تمہیں ثواب أَخْطَتُوْا فَلَكُمْ وَعَلَيْهِمْ۔ہو گا اور اُن کو وبال۔