صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 95
صحيح البخاری جلد ۲ ۹۵ ١٠ - كتاب الأذان ٦٩٣: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ۶۹۳: محمد بن بشار نے ہم سے بیان کے بیان کیا، کہا :) حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنِي يحي نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ وہ أَبُو التَّيَّاحِ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى کہتے تھے کہ ابوتیاح نے مجھے بتایا۔ انہوں نے اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اسْمَعُوْا وَأَطِيعُوا حضرت انس بن مالک) سے، حضرت انس نے نبی وَإِنِ اسْتُعْمِلَ حَبَشِيٌّ كَأَنَّ رَأْسَهُ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپ نے فرمایا: سنو زَبِيبَة۔ اور فرمانبرداری کرو۔ خواہ ایک ایسا حبشی ہی حاکم بنایا جائے، جس کا سر گو یا مشقی کا دانہ ہے۔ اطرافه: ٦٩٦، ٧١٤٢۔ ہے۔ تشريح : يَؤُمُهُمْ أَقْرَأَهُمْ لِكِتَابِ الله : شرافت وفضیلت کا صل معیار قوی اللہ جیساکہ اللہ تعلٰی فرماتا ہے: إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَكُمُ (الحجرات : (۱۴) بلاشبہ اللہ کے نزدیک تم میں سے سب سے زیادہ معزز وہی ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔ دراصل عمل ہی معیار ہے؟ جس سے انسان کی قدر و قیمت پر کھی جاتی ہے۔ باب نمبر ۴۶ میں گزر چکا ہے کہ امامت کی شا ہے کہ امامت کی شرط علم و فضل ہے۔ اس باب میں وہی مضمون دہراتے : مون دہراتے ہوئے یہ بحث اُٹھائی ہے کہ آیا غلام ، آزاد شدہ غلام ، ولد الحرام، گنوار اور نابالغ کا امام ہونا جائز ہے؟ فقہاء نے اس مسئلہ میں جواز کا فتویٰ دیا ہے۔ بشرطیکہ امامت کی شرائط اُن میں پائی جاتی ہوں ۔ اَقْرَءُ هُمْ کے معنی ہیں اَفَقَهُهُمْ یعنی سب سے زیادہ سمجھنے والا ۔ اعمال کی صحت سچی معرفت کے ساتھ وابستہ ہے۔ امامت کے لئے لفظی قرأت سے زیادہ فہم معانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ امام شافعی نے اقْرَءُ کے معنی افقَهُ لئے ہیں۔ یعنی زیادہ فہیم ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے۔ يَوْمُ الْقَوْمَ اقْرَؤُهُمُ سے یہ مراد لینا کہ امامت کے لئے قرآت لفظی کے سوا اور کوئی شرط ہی نہیں ، صریح غلطی ہے۔ بداية المجتهد - الجملة الثالثة من كتاب الصلاة - الباب الثاني - الفصل الثاني في معرفة شروط الإمامة) امام بخاری کو یہ باب باندھنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی ہے کہ امام ابو حنیفہ اور امام مالک کے نزدیک ان لوگوں کا امام بنا مکروہ ہے، جو بعض نقائص کی وجہ سے عام طور پر بنظر حقارت دیکھے جاتے ہیں۔ جیسے ولد الحرام ۔ ان ائمہ کے نزدیک جمعہ جیسے اجتماعی موقعوں پر تو ان کی امامت مکروہ ہی نہیں بلکہ نا جائز ہے۔ غالباً ان کی یہ رائے مقام تقوی کی وسیع احتیاط کو ملحوظ رکھ کر ہے نہ مطلق بصورت فتوئی اور اولوالامر کے لئے بطور ایک مشورہ ہے۔ تا کہ وہ کسی کو امام مقرر کرنے میں مقتدیوں کے جذبات واحساسات کا لحاظ رکھیں اور ایسے اماموں کو بھی انگشت نمائی سے بچائیں۔ ورنہ اسلام کی تعلیم اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ اس امر میں واضح ہے۔ اسلام نے ادنی اور کمزور لوگوں کو اُٹھنے اور بڑھنے کے ویسے ہی مواقع دیئے ہیں جیسے اعلیٰ طبقہ کے لوگوں کو ۔ ایسا ہی بچے اور بوڑھے بھی مقام امامت پر کھڑے ہونے سے نہیں روکے گئے۔