صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 94
صحيح البخاری جلد ۲ ۹۴ ١٠ - كتاب الأذان امام بخاری نے اتم یعنی گناہ کا لفظ اختیار کر کے اس فعل کی برائی کی طرف توجہ دلائی ہے، سزا کی طرف نہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک بھی یہ ایک تشبیہ ہے۔حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور امام احمد بن حنبل وائل ظاہر ایسے شخص کی نماز فاسد سمجھتے ہیں۔جمہور کے نزدیک نماز تو ہو جائے گی مگر وہ بہت گناہگار ہوگا۔(فتح الباری جز رثانی صفحہ ۳۳۸) بَابِ ٥٤ : إِمَامَةُ الْعَبْدِ وَالْمَوْلَى غلام اور آزاد شدہ غلام کی امامت وَكَانَتْ عَائِشَةُ يَؤُمُّهَا عَبْدُهَا حضرت عائشہ کی امامت اُن کا غلام ذکوان ذَكْوَانُ مِنْ الْمُصْحَفِ وَوَلَدِ الْبَغِيِّ قرآن شریف سے دیکھ کر کیا کرتا تھا اور فاحشہ کے لڑکے وَالْأَعْرَابِيِّ وَالْغُلَامِ الَّذِي لَمْ يَحْتَلِم اور گنوار اور اُس لڑکے کی امامت جو ابھی بالغ نہ ہوا ہو۔لِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کی امامت وہ يَؤُمُّهُمْ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللهِ { وَلَا يُمْنَعُ کرے جو اُن میں سے کتاب اللہ کا زیادہ قاری ہو۔الْعَبْدُ مِنَ الْجَمَاعَةِ بِغَيْرِ عِلَّةٍ } اور غلام بغیر کسی سبب کے باجماعت نماز سے نہ روکا جائے۔اہم ٦٩٢: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ :۶۹۲: ابراہیم بن منذر نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ عَنْ عُبَيْدِ انس بن عیاض نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عبید اللہ اللَّهِ عَنْ نَّافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ لَمَّا قَدِمَ سے، عبید اللہ نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمرؓ الْمُهَاجِرُوْنَ الْأَوَّلُوْنَ الْعُصْبَةَ مَوْضِعٌ سے روایت کی۔وہ کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ کے بِقُبَاءَ قَبْلَ مَقْدَم رَسُولِ اللهِ ﷺ كَانَ آنے سے پیشتر جب پہلے مہاجر عصبہ میں آئے ، جو قبا يَؤُمُّهُمْ سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ وَكَانَ میں ایک مقام ہے، حضرت ابوحذیفہ کے آزاد شدہ غلام حضرت سالم ان کی امامت کیا کرتے تھے أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا۔اطرافه ٧١٧٥۔اور انہیں سب سے زیادہ قرآن یاد تھا۔الفاظ وَلَا يُمْنَعُ الْعَبُدُ مِنَ الْجَمَاعَةِ بِغَيْرِ عِلَّةٍ ، فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں۔(فتح الباری جزء ثانی حاشیہ صفحہ ۲۳۹)