صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 93 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 93

صحیح البخاری جلد ۲ ۹۳ ١٠ - كتاب الأذان حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي ابونعیم نے بھی ہم سے بیان کیا کہ ہم سے سفیان نے إِسْحَاقَ نَحْوَهُ بِهَذَا۔اطرافه: ٧٤٧، ٨١١ تشریح: بروایت ابو اسحاق اسی طرح بیان کیا۔قَالَ أَنَسٌ فَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا : ایک نسخے میں قَالَ أَنَسٌ کے بعد عَنِ النَّبِي الله ہے۔(فتح الباری جزء ثانی حاشیه صفحه ۲۳۴) إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِہ کے ارشاد کی مزید وضاحت کی گئی ہے۔مقتدی رکوع و سجدہ امام سے پہلے بجانہ لائے بلکہ اس کے بعد کرے۔بَاب ٥٣ : إِثْمُ مَنْ رَفَعَ رَأْسَهُ قَبْلَ الْإِمَامِ اس شخص کا گناہ جس نے امام سے پہلے اپنا سر اٹھایا ٦٩١: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ :۶۹۱ حجاج بن منہال نے ہم سے بیان کیا ، کہا : قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ شعبہ نے ہمیں بتایا کہ محمد بن زیاد سے مروی ہے کہا: قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ میں نے حضرت ابو ہریرہ سے سنا۔وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم أَمَا يَخْشَى أَحَدُكُمْ أَوْ لَا يَخْشَى سے روایت کرتے تھے کہ آپ نے فرمایا: کیا تم میں أَحَدُكُمْ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ قَبْلَ الْإِمَامِ أَنْ سے کوئی جب وہ اپنا سر امام سے پہلے اٹھاتا ہے اس يَجْعَلَ اللَّهُ رَأْسَهُ رَأْسَ حِمَارٍ أَوْ يَجْعَلَ بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ تعالیٰ اس کے سر کو گدھے کا سر بنادے؟ یا ( فرمایا : ) اللہ تعالیٰ اس کی شکل گدھے اللَّهُ صُورَتَهُ صُوْرَةَ حِمَارٍ۔کی شکل بنادے۔فریح: إِثْمُ مَنْ رَفَعَ رَأْسَهُ قَبْلَ الْإِمَامِ: اس باب میں بھی گذشتہ ابواب کی طرح امام کی اقتداء کا مضمون ہے۔گدھا بلادت طبع ، حماقت اور خودسری میں ضرب المثل ہے۔قرآن مجید نے بھی اس مثال کو بیان فرمایا ہے: مَثَلُ الَّذِيْنَ حُمِلُوا التَّوْرَةَ ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوْهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ اَسْفَارًا (الجمعة:٢) يعني جن لوگوں پر تو راہ کی ذمہ داری ڈالی گئی اور وہ اس کو اُٹھانے سے قاصر ہیں۔ان کی مثال گدھے کی ہے جو کتا ہیں اٹھاتا ہے مگر سمجھتا نہیں۔پس ان مقتدیوں کو بھی گدھے سے تشبیہ دی گئی ہے۔جو بظاہر اپنا امام مقرر کرتے ہیں تا اس کی اتباع کریں۔مگر عمل اس کی اتباع نہیں کرتے۔ایسے شخص کا سر گدھے ہی کا سر ہے۔ہمارے اعمال اور ان کی معنویات آخرت میں مناسب شکلوں میں متمثل ہوں گی۔اس دنیا میں ہم ان تمثیلات کی اصل ماہیت سے آگاہ نہیں ہو سکتے۔اسی لئے وہ تمثیلات میں بیان کی گئی ہے۔تفصیل کے لئے دیکھئے : اسلامی اصول کی فلاسفی۔دوسرا دقیقہ معرفت روحانی خزائن جلده اصفحه ۴۰۸ تا ۴۱۳۔