صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 92
صحيح البخاری جلد ۲ صلى الله ۹۲ ١٠ - كتاب الأذان جب وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غیر موجودگی میں عصر کی نماز پڑھانے لگے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے تو وہ پیچھے ہٹ گئے اور حضور کے دریافت کرنے پر عرض کیا: مَا كَانَ لابنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يُصَلِّيَ بَيْنَ يَدَى رَسُول الله له روایت نمبر (۶۸۴) مگر یہاں صرف یہی ادب کا پاس رکھنے والی صورت نہیں، بلکہ آنحضرت ﷺ ع خود حضرت ابو بکر کے بائیں طرف بیٹھے ہیں، جہاں امام کھڑا ہوتا ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اپنی امت کو عملاً یہ سبق دیا ہے کہ آپ کے جانشین در حقیقت آپ کی اقتداء کرنے والے ہوں گے اور مقتدی جو ان خلفاء راشدین کی اقتدا کریں گے؛ وہ بھی در حقیقت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی اقتداء کریں گے۔امام احمد بن حنبل اور اسحاق " کا یہ مذہب ہے کہ اگر امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو مقتدی بھی بیٹھ کر پڑھیں۔یہی فقہاء روایت نمبر ۶۸۹،۶۸۸ میں وارد شدہ نص صریح کو حضرت عائشہ کی روایت پر ترجیح دیتے ہیں اور اس کو منسوخ نہیں سمجھتے۔ان کے نزدیک حضرت عائشہ کی روایت اس بارے میں مضطرب ہے کہ امام حضرت ابو بکر تھے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔مزید تفصیل کے لئے دیکھئے: بداية المجتهد - الجملة الثالثة من كتاب الصلوة - الباب الثاني - الفصل الرابع في معرفة ما يجب على المأموم ان يتبع فيه الامام - المسئلة الثانية وهى صلوة القائم خلف القاعد باب ٥٢ : مَتَى يَسْجُدُ مَنْ خَلْفَ الْإِمَامِ جو امام کے پیچھے ہو وہ کب سجدہ کرے؟ قَالَ أَنَسٌ فَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوْا حضرت انس نے کہا: جب وہ سجدہ کرے تم بھی سجدہ کرو۔٦٩٠: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا ۶۹۰: مدد نے ہم سے بیان کیا، کہا: یحی بن سعید يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنِي نے سفیان سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا۔أَبُو إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ انہوں نے کہا: ابواسحاق نے مجھ سے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ وَهُوَ غَيْرُ كَذُوبٍ قَالَ عبد الله بن یزید نے مجھے بتایا کہا کہ حضرت براو نے كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ إِذَا قَالَ سَمِعَ الله مجھ سے بیان کیا اور وہ غلط نہیں کہتے۔انہوں نے کہا لِمَنْ حَمِدَهُ لَمْ يَحْنِ أَحَدٌ مِنَّا ظَهْرَهُ حَتَّى که رسول اللہ صلی الہ علیہ وسلم جب سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ يَقَعَ النَّبِيُّ ﷺ سَاجِدًا ثُمَّ نَقَعُ سُجُوْدًا حَمِدَهُ کہتے تو ہم میں سے کوئی بھی اس وقت تک اپنی پیٹھ نہ جھکاتا ، جب تک کہ آپ سجدہ نہ کرتے۔پھر ہم آپ کے بعد سجدہ کرتے۔بَعْدَهُ