صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 91 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 91

اری جلد ۲ ۹۱ ١٠ - كتاب الأذان قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ قَالَ الْحُمَيْدِيُّ قَوْلُهُ إِذَا ابو عبد الله ( بخاری ) نے کہا کہ حمیدی کہتے تھے کہ یہ جو صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوْا جُلُوسًا هُوَ فِي آپ نے فرمایا ہے کہ جب وہ بیٹھے ہوئے نماز پڑھے مَرَضِهِ الْقَدِيمِ ثُمَّ صَلَّى بَعْدَ ذَلِكَ تو تم بھی بیٹھ کر ہی نماز پڑھو۔آپ نے یہ اپنی پہلی النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا مرض میں فرمایا تھا۔پھر اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم وَالنَّاسُ خَلْفَهُ قِيَامًا لَمْ يَأْمُرْهُمْ نے بیٹھ کر نماز پڑھی اور لوگ آپ کے پیچھے کھڑے بِالْقُعُودِ وَإِنَّمَا يُؤْخَذُ بِالْآخِرِ فَالْآخِرِ تھے اور آپ نے ان کو بیٹھنے کے لئے نہیں فرمایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فعل کو لیا جائے گا جو سب مِنْ فِعْلِ النَّبِيِّ۔سے آخری ہو۔اطرافه ۳۷۸ ۷۳۲، ۷۳۳، ۸۰۰، ۱۱۱۹، ۱۹۱۱، ٢٤٦٩، ٢٠١، ٥٢٨٩، ٦٦٨٤۔تشریح: إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ إِنَّمَا جُعِلَ الْاِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ : إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِہ کے مفہوم کی تعیین تخصیص کرنے کے لئے تین حوالے عنوان باب میں نقل کئے گئے ہیں۔ایک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بیٹھ کر نماز پڑھانا جبکہ لوگ کھڑے تھے۔دوسرا حضرت ابن مسعود کا جو اِن الفاظ سے شروع ہوتا ہے: لَا تُبَادِرُوا أَئِمَّتَكُمْ بِالرُّكُوعِ وَلَا بِالسُّجُودِ وَإِذَا رَفَعَ أَحَدُكُمْ رَأْسَهُ وَالْإِمَامُ سَاجِدٌ فَلْيَسْجُدُ ثُمَّ لِيَمُكُثُ قَدْرَ مَا سَبَقَ بِهِ الإمام۔مصنف ابن ابی شیبه کتاب الصلوات باب الرجل يرفع رأسه قبل الامام روایت نمبر ۴۶۲۰) یعنی رکوع اور سجدہ اپنے ائمہ (کے کرنے سے پہلے نہ کیا کرو اور اگر کوئی (سجدہ سے) اپنا سر اٹھا لے جبکہ امام سجدہ ہی میں ہو تو - چاہیے کہ وہ امام کے سراٹھانے کے بعد سجدے میں اتنی دیر ر ہے جتنی دیر اس نے امام سے پہلے سراٹھایا تھا۔مَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا روایت نمبر ۶۳۵، ۶۳۶) ایک تیسری صورت عدم اتباع کی یہ ہے کہ امام کے ساتھ سجدہ نہیں کر سکا۔جیسے نماز جمعہ میں بوجہ از دحام کے اور اس کی رکعت نہیں ہوئی تو وہ امام کے فارغ ہونے پر ان چھوڑے ہوئے دو سجدوں کی جگہ دو سجدے کرے اور پھر ایک رکعت پڑھے۔چوتھی صورت عدم اتباع کی یہ ہے کہ بھول کر سجدہ نہیں کیا تو امام کے فارغ ہونے پر ایک سجدہ کر لے۔ان دو آخری صورتوں میں مَا فَاتَكُمْ فَائِمُوا کے ارشاد کی تعمیل نماز فریضہ کے اختتام پر کی جائے گی۔غرض امام موصوف نے یہ چار صورتیں بیان کی ہیں۔جن سے اتباع امام کی مشروعیت اور اس کی نوعیت وجوب واضح ہوتی ہے۔صَلَّى النَّبي عل الله جَالِسًا وَالنَّاسُ خَلْفَهُ قِيَامًا : روایت نمبر ۶۸۳ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رکوع اور سجدہ کرنے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کی اور صحابہ کرام نے حضرت ابو بکر کی بعض شارحین کا خیال ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق نے ایسا ادب کی وجہ سے کیا تھا۔جیسا کہ ایک پہلے موقع پر