صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 89
جلد ۲ ۸۹ ١٠ - كتاب الأذان اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ بِصَلَاةِ أَبِي کرتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے۔بَكْرٍ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عبداللہ نے کہا: میں حضرت عبد اللہ بن عباس کے قَاعِدٌ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَدَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ پاس گیا اور میں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری سے متعلق جو بات حضرت عائشہ نے مجھے بتائی ہے کیا اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ لَهُ أَلَا أَعْرِضُ وہ میں آپ کے سامنے بیان نہ کروں؟ انہوں نے عَلَيْكَ مَا حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ عَنْ مَّرَضِ کہا: کہیے تو میں نے حضرت عائشہ کی بات ان کے النَّبِيِّ ﷺ قَالَ هَاتِ فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ سامنے بیان کی تو انہوں نے اس میں سے کسی بات کا حَدِيثَهَا فَمَا أَنْكَرَ مِنْهُ شَيْئًا غَيْرَ أَنَّهُ بھی انکار نہیں کیا۔سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا: قَالَ أَسَمَّتْ لَكَ الرَّجُلَ الَّذِي كَانَ کیا انہوں نے تمہیں اس شخص کا نام بتایا تھا جو حضرت مَعَ الْعَبَّاسِ قُلْتُ لَا قَالَ هُوَ عَلِيٌّ۔عباس کے ساتھ تھا؟ میں نے کہا: نہیں۔کہا : وہ حضرت علی تھے۔اطرافه ١٩٨، ٦٦٤ ، ٦٦٥، ٦٧٩، ٦٨٣، ٧١٢، ٧١٣، ٧١٦، ٢٥٨٨، ٣٠٩٩، ٦٨٨: ۷۳۰۳ ،٣٣٨٤ ٤٤٤٢، ٤٤٤٥، ٥٧١٤ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ :۲۸۸ عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ کہا: مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ہشام بن عروہ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِيْنَ أَنَّهَا ہے، ہشام نے اپنے باپ سے، انہوں نے حضرت قَالَتْ صَلَّى رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ عائشہ ام المؤمنین سے روایت کی کہ وہ کہتی تھیں: وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ وَهُوَ شَاكٍ فَصَلَّى رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر میں نماز جَالِسًا وَصَلَّى وَرَاءَهُ قَوْمٌ قِيَامًا فَأَشَارَ پڑھی۔جبکہ آپ تکلیف میں تھے۔آپ نے بیٹھ کر نماز پڑھی اور کچھ لوگوں نے آپ کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھی۔آپ نے ان کو اشارہ کیا کہ بیٹھ جاؤ۔إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا رَكَعَ جب آپ فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا: امام تو اسی فَارْكَعُوْا وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوْا وَإِذَا صَلَّى لئے مقرر کیا گیا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔پس إِلَيْهِمْ أَنِ اجْلِسُوْا فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ