صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 88
صحيح البخاري - جلد ۲ ۸۸ ١٠ - كتاب الأذان عُكُوفٌ فِي الْمَسْجِدِ يَنْتَظِرُوْنَ النَّبِيَّ نے عرض کیا نہیں یا رسول اللہ ! وہ آپ کی انتظار میں عَلَيْهِ السَّلَامُ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ ہیں اور لوگوں کا یہ حال تھا کہ مسجد میں اکٹھے بیٹھے فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عشاء کی نماز کے لئے بی علیہ السلام کا انتظار کر رہے تھے۔ تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر کو إِلَى أَبِي بَكْرٍ بِأَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فَأَتَاهُ کہلا بھیجا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ ان کے الرَّسُوْلُ فَقَالَ إِنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى پاس پیغامبر آیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُصَلِّيَ فرماتے ہیں کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ اس بِالنَّاسِ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَكَانَ رَجُلًا پر حضرت ابوبکر نے کہا؟ اور وہ نرم دل آدمی تھے؟ رَقِيقًا يَا عُمَرُ صَلِّ بِالنَّاسِ فَقَالَ لَهُ عمر لوگوں کو نماز پڑھا دو تو حضرت عمر نے ان سے کہا: آپ اس کے زیادہ حق دار ہیں۔ چنانچہ حضرت عُمَرُ أَنْتَ أَحَقُّ بِذَلِكَ فَصَلَّى أَبُو بَكْرِ ابوبکر ان دنوں میں نماز پڑھاتے رہے۔ پھر نبی تِلْكَ الْأَيَّامَ ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ صلى اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیماری میں تخفیف محسوس کی وَسَلَّمَ وَ۔ وَجَدَ مِنْ نَّفْسِهِ خِفَّةً فَخَرَجَ بَيْنَ اور آپ دو آدمیوں کے درمیان ظہر کی نماز - مہر کی نماز کے لئے ارحم رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا الْعَبَّاسُ لِصَلَاةِ الظُّهْرِ نگے۔ ان میں سے ایک حضرت عباس تھے اور حضرت ابو بکر لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔ جب وَأَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فَلَمَّا رَآهُ حضرت ابو بکر نے آپ کو دیکھا تو وہ پیچھے ہٹنے لگے ۔ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ فَأَوْمَا إِلَيْهِ النَّبِيُّ في صلى اللہ علیہ وسلم نے آپ کو اشارہ کیا کہ پیچھے نہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنْ لَّا يَتَأَخَّرَ ہیں اور فرمایا: مجھے ان کے پہلو میں بٹھا دو۔ تو انہوں قَالَ أَجْلِسَانِي إِلَى إِلَى جَنْبِهِ فَأَجْلَسَاهُ إِلَى نے حضرت ابو ابوبکر کے پہلو میں آپ کو میں آپ کو بٹھا دیا۔ جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ قَالَ فَجَعَلَ أَبُو بَكْرٍ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز پڑھانے لگے اور وہ عبیداللہ کہتے تھے: حضرت ابوبکر نبی صلی اللہ نماز يُصَلِّي وَهُوَ يَأْتَمُّ بِصَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى کڑے تھے اور لوگ حضرت ابوبکر کی اقتداء حمد فتح الباری مطبوعہ بولاق میں يَأْتُم کی بجائے قائم کا لفظ ہے۔ ( فتح الباری جزء ثانی حاشیہ صفحہ ۲۲۵) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔