صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 85
صحيح البخاری جلد ۲ ۸۵ ١٠ - كتاب الأذان قوم کی امامت وہ شخص کروائے جو کتاب اللہ کا زیادہ علم رکھتا ہے) سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے۔اس لئے یہاں اَكْبَرُ كُمُ کی تخصیص سے یہی مراد لینی پڑے گی کہ وہ بلحاظ واقفیت دین و قرآت کے سب برابر تھے۔عقلاً بھی یہی تسلیم کرنا پڑے گا کهہ امامت کے لئے محض بڑی عمر کا ہونا ضروری نہیں۔آگے ایسی روایتیں آتی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک لڑکا چونکہ قرآن مجید سب سے عمدہ جانتا اور پڑھتا تھا، بڑوں کو نماز پڑھایا کرتا تھا۔(دیکھئے روایت نمبر ۴۳۰۲) باب ٥٠ : إِذَا زَارَ الْإِمَامُ قَوْمًا فَأَمَّهُمْ اگر امام بعض لوگوں کو ملنے جائے اور وہ ان کا امام بنے ٦٨٦: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ أَسَدٍ أَخْبَرَنَا :۲۸۶ معاذ بن اسد نے ہم سے بیان کیا ، ( کہا: ) عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ عبد اللہ نے ہمیں خبر دی کہ معمر نے ہمیں بتایا۔زہری أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ قَالَ سے مروی ہے۔وہ کہتے تھے: محمود بن ربیع نے مجھے سَمِعْتُ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكِ الْأَنْصَارِيُّ بتایا، کہا: میں نے حضرت عتبان بن مالک انصاری قَالَ اسْتَأْذَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ سے سنا۔انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وَسَلَّمَ فَأَذِنْتُ لَهُ فَقَالَ أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ اجازت طلب فرمائی اور میں نے اجازت دی۔پھر أُصَلِّيَ مِنْ بَيْتِكَ فَأَشَرْتُ لَهُ إِلَى آپ نے فرمایا: تم اپنے گھر میں کہاں پسند کرتے ہو الْمَكَانِ الَّذِي أُحِبُّ فَقَامَ وَصَفَفْنَا کہ میں نماز پڑھوں تو میں نے اُس جگہ کی طرف اشارہ کیا جس کو میں پسند کرتا تھا۔تب آپ کھڑے خَلْفَهُ ثُمَّ سَلَّمَ وَسَلَّمْنَا۔ہوئے اور ہم نے آپ کے پیچھے صفیں باندھیں۔پھر آپ نے سلام پھیرا اور ہم نے بھی سلام پھیرا۔اطرافه ،٤، ٥٤٠١۰۱۰ ،۶۰۰۹ ،۱۱۸۶ ،۸۴۰ ،۸۳۸ ،٤٢٤، ٤٢٥ ٦٦٧ ٦٤٢٣، ٦٩٣٨۔تشریح : إِذَا زَارَ الْإِمَامُ قَوْمًا فَأَمَّهُمْ : ابو داود اور ترندی نے ایک مستند حدیث نقل کی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: مَنْ زَارَ قَوْمًا فَلَا يَؤُمَّهُمْ وَلْيَؤُمَّهُمْ رَجُلٌ مِنْهُمْ۔(ترمذی، کتاب الصلاة، باب ماجاء في من زار قوما لا يصلى بهم) (ابوداؤد، كتاب الصلاة، باب امامة الزائر) یعنی جو بعض لوگوں سے ملنے جائے تو وہ ان کا امام نہ بنے اور چاہیے کہ انہی میں سے کوئی شخص امام ہو۔امام بخاری نے الامام کہہ کر اُس امام کومستی کیا ہے جو