صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 86
اری جلد ۲ AY ١٠ - كتاب الأذان بادشاہ یا خلیفہ وقت یا امام اعظم کی حیثیت رکھتا ہو۔ایسا ہی وہ لوگ بھی قیاسا متمنی ہوں گے جو اپنے علم وفضل اور تقویٰ کے لحاظ سے قوم میں ایک نمایاں امتیاز رکھتے ہیں۔اگر یہ لوگ امام ہوں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد مذکورہ بالا کے خلاف نہیں مگر ایسے لوگوں کا نماز پڑھانا بھی در حقیقت مقامی امام کی اجازت کے ساتھ ہی درست ہوگا یہ نہیں کہ وہ خود بخوداس کے حق امامت میں تصرف کریں۔حضرت عتبان بن مالک کا مذکورہ بالا واقعہ پہلے مفصل گزر چکا ہے۔جس سے ظاہر ہے کہ حضرت عتبان نے خود درخواست کی تھی۔(دیکھئے کتاب الصلواۃ۔باب ۴۶۔روایت نمبر ۴۲۵) شارع اسلام علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ مذکورہ بالا حکم بھی اجتماعی نظم و نسق کو محفوظ رکھنے کے لئے کمال حکمت پر مبنی ہے اور بتاتا ہے کہ علم سیاست میں بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کو نہایت باریک بین نظر عطا فرمائی تھی۔اس کی مثالیں آگے بہت سی آئیں گی۔باب ٥١ : إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ امام تو صرف اسی لئے مقرر کیا گیا ہے کہ اُس کی پیروی کی جائے وَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اُس بیماری میں جس مَرَضِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيْهِ بِالنَّاسِ وَهُوَ میں آپ فوت ہوئے لوگوں کو اس حالت میں نماز جَالِسٌ وَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ إِذَا رَفَعَ قَبْلَ پڑھائی کہ آپ بیٹھے ہوئے تھے اور حضرت ابن مسعودؓ الْإِمَامِ يَعُوْدُ فَيَمْكُتُ بِقَدْرِ مَا رَفَعَ ثُمَّ نے کہا کہ جب امام سے پہلے سر اٹھائے تو وہ پھر يَتْبَعُ الْإِمَامَ وَقَالَ الْحَسَنُ فِيْمَنْ يَرْكَعُ لوٹے اور اسی قدر ٹھہرا رہے جس قدر سر اٹھایا تھا۔پھر مَعَ الْإِمَامِ رَكْعَتَيْنِ وَلَا يَقْدِرُ عَلَى امام کی پیروی کرے اور حسن (بصری ) نے اس شخص السُّجُوْدِ يَسْجُدُ لِلرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ کے بارے میں کہا: جو امام کے ساتھ دورکعتیں پڑھے سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ يَقْضِي الرَّكْعَةَ الْأُولَى اور سجدہ نہ کر سکے کہ وہ آخری رکعت پر دو سجدے بِسُجُوْدِهَا وَفِيْمَنْ نَسِيَ سَجْدَةً حَتَّى کرے اور پھر پہلی رکعت مع سجدہ ادا کرے اور اس شخص سے متعلق بھی کہا: جو ایک سجدہ بھول جائے اور قَامَ يَسْجُدُ کھڑا ہو جائے کہ وہ ایک سجدہ کرے۔