صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 30 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 30

صحيح البخاري - جلد ا ۳۰ ا - كتاب بدء الوحي کر اس نے وہ خط منگوایا اور اس کو پڑھا۔ اسلامی تاریخ اور مستند روایات - اسلامی تاریخ اور مستند روایات سے صاف پتہ چلتا ہے کہ یہ خطوط صلح حدیبیہ کے بعد لکھے گئے اور صلح حدیبیہ کا واقعہ تھے یعنی ۱۲۸ء میں ہوا۔ اس زمانہ میں بیرونی ممالک کے بادشاہوں کو تبلیغی خطوط لکھے گئے تھے۔ اس سے ظاہر ہے کہ ہر اسے ظاہر ہے کہ ہر قل کے بیت المقدس پہنچنے سے پہلے یہ خط اس کو مل چکا تھا۔ یہ ایک اور قرینہ ہے جو ابوسفیان کے بیان کی تصدیق کرتا ہے۔ اگر قدیم عیسائیوں نے اپنی تاریخ میں اس واقعہ کا ذکر نہیں کیا تو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں۔ کیونکہ تعصب نے اس قسم کی نظر اندازیاں ان سے بہت کرائی ہیں۔ خصوصاً اسلامی واقعات کے متعلق تو ان کے اپنے مؤرخ بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں۔ (گین جلد 4 صفحہ ۷ ) (The Decline and the Fall of Roman Empire) ہر قل کے سوالات اور ابوسفیان کے جوابات کو بھی ایک سرسری نظر دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ تصنع اور بناوٹ سے بالکل خالی اور واقعات پر پینی ہیں۔ ان سوالات سے نیز ہر اسے نیز ہر قل کے استدلالات سے بھی مترشح ہوتا ہے کہ وہ ایسے شخص کے ہیں جو انبیاء کے حالات سے واقف اور انبیاء کے ساتھ جو سنت الہی قدیم سے چلی آتی ہے، اس سے پورے طور ، پورے طور پر آگاہ ہے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے باب بدء الوحی میں یہ واقعہ پیش کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاکیزہ اخلاق کے متعلق ایک دوسری شہادت پیش کی ہے جو آپ کے ایک سخت دشمن کی ہے اور یہ شہادت اس نے غائبانہ دی ہے اور ایک ایسے موقع پر دی ہے جہاں انسان طبعا سچ بولنے کی طرف مائل ہوتا ہے۔ یعنی ایک بادشاہ کے سامنے رومی اراکین کی بھری مجلس میں اس قسم کا ماحول انسان کی طبیعت پر ضرور اثر انداز ہوتا ہے اور پھر ابو سفیان کا اپنا بیان بھی ہے کہ اگر مجھے اس بات کا خیال نہ ہوتا کہ میرے ساتھی میرے متعلق باہر جا کر چرچا کریں گے کہ میں نے جھوٹ بولا ہے تو میں ضرور جھوٹ بولتا ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب ابوسفیان یہ شہادت دے رہے تھے تو دشمنی کے جذبات مردہ نہیں بلکہ زندہ تھے اور وہ اپنی قوت میں ایسے شدید تھے کہ جہاں بھی ان کو کام کرنے کا موقع ملا ہے وہ اس سے چوکے نہیں۔ چنانچہ ابوسفیان کہتے ہیں کہ احدیبیہ کے ذکر پر ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر چوٹ کرنے کا انہیں موقع ملا۔ یعنی انہوں نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پہلے تو کبھی بد عہدی نہیں کی مگر اب اس صلح سے متعلق دیکھیں کہ کیا کرتے ہیں۔ غرض یہ امور ہیں جو ابوسفیان کی شہادت کو بہت بڑی اہمیت دیتے ہیں اور اس میں کیا شک ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاکیزہ اخلاق کو دیکھ کر سارا عرب الامين الامين کے لقب سے آپ کو پکارتا تھا اور یہی وہ صداقت و امانت ہے کہ جس کی بناء پر ہر قتل کہتا ہے کہ یہ ہو نہیں سکتا کہ لوگوں پر تو وہ جھوٹ نہ بولے اور خدا پر جھوٹ بولے۔ صلح حد ہر قل کے استدلالات ایسی واضح صداقتیں ہیں کہ کسی تشریح کی محتاج نہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا ایک ایک واقعہ اس کا شاہد ہے، جیسا کہ اس کتاب کے مطالعہ سے یہ امر عیاں ہو جائے گا۔ موقع و محل پر ان اعتراضات کا بھی ذکر إِن شَاءَ اللہ کیا جائے گا جو آپ کی دیانت وامانت و عفت و تقویٰ پر بو و تقویٰ پر بعض نا بلد کیا کرتے ہیں۔