صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 30
صحيح البخاری جلد ا ۳۰ ا - كتاب بدء الوحي کر اس نے وہ خط منگوایا اور اس کو پڑھا۔اسلامی تاریخ اور مستند روایات سے صاف پتہ چلتا ہے کہ یہ خطوط اصلح حدیبیہ کے بعد لکھے گئے اور صلح حدیبیہ کا واقعہ تھے یعنی ۱۲۸ ء میں ہوا۔اس زمانہ میں بیرونی ممالک کے بادشاہوں کو تبلیغی خطوط لکھے گئے تھے۔اس سے ظاہر ہے کہ ہر قل کے بیت المقدس پہنچنے سے پہلے یہ خط اس کو مل چکا تھا۔یہ ایک اور قرینہ ہے جو ابوسفیان کے بیان کی تصدیق کرتا ہے۔اگر قدیم عیسائیوں نے اپنی تاریخ میں اس واقعہ کا ذکر نہیں کیا تو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں۔کیونکہ تعصب نے اس قسم کی نظر انداز یاں ان سے بہت کرائی ہیں۔خصوصاً اسلامی واقعات کے متعلق تو ان کے اپنے مؤرخ بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں۔( گبن جلد 4 صفحہ ۷ ) (The Decline and the Fall of Roman Empire) ہرقل کے سوالات اور ابوسفیان کے جوابات کو بھی ایک سرسری نظر دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ تصنع اور بناوٹ سے بالکل خالی اور واقعات پر مبنی ہیں۔ان سوالات سے نیز ہر قل کے استدلالات سے بھی مترشح ہوتا ہے کہ وہ ایسے شخص کے ہیں جوانبیاء کے حالات سے واقف اور انبیاء کے ساتھ جو سنت الہی قدیم سے چلی آتی ہے، اس سے پورے طور پر آگاہ ہے۔امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے باب بدء الوحی میں یہ واقعہ پیش کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاکیزہ اخلاق کے متعلق ایک دوسری شہادت پیش کی ہے جو آپ کے ایک سخت دشمن کی ہے اور یہ شہادت اس نے غائبانہ دی ہے اور ایک ایسے موقع پر دی ہے جہاں انسان طبعا سچ بولنے کی طرف مائل ہوتا ہے۔یعنی ایک بادشاہ کے سامنے رومی اراکین کی بھری مجلس میں اس قسم کا ماحول انسان کی طبیعت پر ضرور اثر انداز ہوتا ہے اور پھر ابوسفیان کا اپنا بیان بھی ہے کہ اگر مجھے اس بات کا خیال نہ ہوتا کہ میرے ساتھی میرے متعلق باہر جا کر چرچا کریں گے کہ میں نے جھوٹ بولا ہے تو میں ضرور جھوٹ بولتا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب ابوسفیان یہ شہادت دے رہے تھے تو دشمنی کے جذبات مردہ نہیں بلکہ زندہ تھے اور وہ اپنی قوت میں ایسے شدید تھے کہ جہاں بھی ان کو کام کرنے کا موقع ملا ہے وہ اس سے چوکے نہیں۔چنانچہ ابوسفیان کہتے ہیں کہ صلح حدیبیہ کے ذکر پر ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر چوٹ کرنے کا انہیں موقع ملا۔یعنی انہوں نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پہلے تو کبھی بد عہدی نہیں کی مگر اب اس صلح سے متعلق دیکھیں کہ کیا کرتے ہیں۔غرض یہ امور ہیں جو ابوسفیان کی شہادت کو بہت بڑی اہمیت دیتے ہیں اور اس میں کیا شک ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاکیزہ اخلاق کو دیکھ کر سارا عرب الأمين الامین کے لقب سے آپ کو پکارتا تھا اور یہی وہ صداقت و امانت ہے کہ جس کی بناء پر ہر قتل کہتا ہے کہ یہ ہو نہیں سکتا کہ لوگوں پر تو وہ جھوٹ نہ بولے اور خدا پر جھوٹ بولے۔ہرقل کے استدلالات ایسی واضح صداقتیں ہیں کہ کسی تشریح کی محتاج نہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا ایک ایک واقعہ اس کا شاہد ہے، جیسا کہ اس کتاب کے مطالعہ سے یہ امر عیاں ہو جائے گا۔موقع ومحل پر ان اعتراضات کا بھی ذکر إِنْ شَاءَ الله کیا جائے گا جو آپ کی دیانت و امانت و عفت و تقویٰ پر بعض نا بلد کیا کرتے ہیں۔