صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 31
صحيح البخاری جلد ا اسم ا - كتاب بدء الوحي ابوسفیان کے جوابات سن کر ہر قل نے یہ جو کہا ہے کہ اگر تم سچ کہتے ہو تو پھر وہ عنقریب اس جگہ کا مالک ہو جائے گا۔یہ بھی ایک مشہور قدیم پیشگوئی کی بناء پر تھا کہ وہ نبی آکر رومیوں سے نجات دے گا اور تمام عیسائی محققین تسلیم کرتے ہیں کہ رومانی سلطنت کی بربادی اور بیت المقدس اور ارض شام کا مسلمانوں کے قبضہ میں آنا عہد قدیم اور انا جیل کی پیشگوئیوں کے مطابق ہوا۔(ملاحظہ ہو کتاب 78:The Appointed TimePage) پس بالکل قرین قیاس ہے کہ ہر قل نے ان پیشگوئیوں کی بناء پر اپنی اس رائے کا اظہار کیا ہو۔(تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: فصل الخطاب حصہ دوم صفحہ ۲۸۸-۲۹۰) ہر قل نے آخر میں جو عقیدت مندی کا اظہار کیا ہے کہ اگر میں اس کے پاس ہوتا تو اس کے پاؤں دھوتا، اس پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ ہر قل اگر ایسا ہی عقیدت مند تھا تو پھر اس نے مسلمانوں سے جنگیں کیوں کیں بلکہ جنگ تبوک کی لڑائی میں اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابل پر فوجیں بھیجیں۔اس کا جواب مختصر یہ ہے کہ اول تو اس روایت میں اس کی اُس وقت کی قلبی حالت کا ذکر کیا گیا ہے جس کا اس نے اظہار کیا اور یہ حالت بالکل طبعی ہے۔پیشگوئی کے مطابق وہ غیر معمولی حالات میں فتح مند و کامیاب ہوا۔اس کی معنویات شکر اور تواضع کے احساسات سے لبریز تھیں۔علاوہ ازیں اس روایت میں یہ نہیں کہا گیا کہ ہر قل کی وہ حالت عقیدت مندی آخر تک قائم رہی اور ہو سکتا ہے کہ اچھا خیال رکھتے ہوئے بھی سیاسی حالات کی وجہ سے کوئی شخص اپنی قوم کی مرضی پورا کرنے کے لئے مجبور ہو۔بہت سے لوگ ہیں کہ ایک بات کو اچھا یا برا یقین کرتے ہیں، مگر اس کے کرنے یا نہ کرنے میں وہ اپنی قدیم عادت یا قومی روایات کے تابع ہوتے ہیں۔پھر قطع نظر اس سے جب ہم ہر قل کی ان جنگوں کے حالات پڑھتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کے مقابل پر کبھی نہیں نکلا۔غزوہ تبوک کی اصل وجہ یہ تھی کہ رومی بڑے لاؤ لشکر کے ساتھ حملہ کرنے کی تیاری کر رہے تھے مگر جب آپ وہاں پہنچے تو کوئی لشکر مقابے پر نہ نکلا اور مابعد کی لڑائیوں میں بھی ہر قل ہمیشہ پیچھے رہا۔مقابلہ کے لئے کبھی نہیں نکلا۔اس کے کئی ایک وجوہ ہو سکتے ہیں۔مگر سب سے بڑھ کر وجہ یہ ہے کہ وہ آپ کا مقابلہ نہیں کرنا چاہتا تھا اور لڑائی سے عمداً پہلو تہی کر رہا تھا۔چنانچہ عیسائی مؤرخوں نے بھی اس کو ملزم گردانا اور کہا ہے کہ ایک باعث ان شکستوں کا خود ہر قل ہے۔گہن بھی اس کو زور دار الفاظ میں متہم کرتا اور کہتا ہے کہ ان جنگوں میں اس کی غیر موجودگی عمد اتھی اور کہتا ہے کہ بجائے اس کے کہ وہ ان ملکوں کو بچاتا اس نے خواہ مخواہ ایک نئی بحث چھیڑ کر تمام ملکوں کو ایک دینی انشقاق میں مبتلا کر دیا تھا۔یعنی یہ بحث کہ مسیح میں دو مختلف طبیعتیں ہیں، ناسوتی اور لاہوتی اور مشیت ایک ہی ہے یعنی الہی۔(History Of The Decline And Fall Of The Roman Empire, Vol۔4 Chapter XLVII: Ecclesiastical Discord۔Vol۔5 Chapter LI: Conquests By The Arabs۔-- Part III۔& -- Part V۔) یہ بحث قطعاً بے وجہ نہ تھی۔بلکہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت توحید سے متاثر اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اتباع کے مقابل پر عمدا آنا نہیں چاہتا تھا۔اسلِمُ تَسلَمُ کی انداری پیشگوئی کے نتائج سے یقینا ہر اساں تھا۔