صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 29
صحيح البخاری جلد ا ۲۹ ا - كتاب بدء الوحي ایک زیرک سلیم الطبع انسان سوائے اچھا اثر لینے کے رہ نہیں سکتا۔مگر اس کے علاوہ ایک اور امر بھی ہے جس کی وجہ سے بالکل قرین قیاس ہے کہ ہر قل آنحضرت لے کے متعلق یقینا اچھا خیال رکھتا ہوگا اور وہ یہ کہ جب فارسیوں سے رومی شکست کھا کر مغلوب اور غایت درجہ کمزور ہو چکے تھے تو آنحضرت ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے اطلاع پاکر رومیوں کے غلبہ کی پیشگوئی فرمائی اور اس کا ذکر سورہ روم کی ابتدائی آیتوں میں ہے۔یعنی یہ کہ رومی مغلوب ہونے کے بعد شرقی ادنیٰ میں فارسیوں پر غالب آئیں گے اور مؤرخ گبن کو اس بات کا کھلے الفاظ میں اقرار ہے کہ جن حالات میں اور جس زمانہ میں اس پیشگوئی کا اعلان کیا گیا تھا، ان کو دیکھتے ہوئے اس سے بڑھ کر اور کوئی پیشگوئی پورا ہونے سے بعید از قیاس نہ ہو سکتی تھی۔کیونکہ فارسیوں نے رومیوں کو خطرناک شکستیں دے کر عراق و شام و ایشیائے کو چک سے ان کی صف لپیٹ دی تھی اور بیت المقدس میں مقامات مقدسہ کو جلا کر وہ صلیب اپنے ملک کو لے گئے تھے جس کے متعلق عیسائیوں کا خیال ہے کہ عیسی علیہ السلام کو اس پر لٹکایا گیا تھا۔ملاحظہ ہو: History Of The Decline And Fall Of The Roman Empire Vol۔4 Chapter XLVI: Troubles in Persia, Part:III سورہ روم ۶۱۶ء میں نازل ہوئی اور مشرکین مکہ اور یہود مدینہ کے طفیل جو عیسائیوں کے دشمن اور مشرکان فارس کے ہمدم تھے۔اس پیشگوئی کی خوب شہرت ہو چکی تھی۔چنانچہ اسی وجہ سے چڑ کر خسرو پرویز نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گرفتار کرنے کا حکم بھیجا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خط کو جو حضرت عبداللہ بن حذافہ کبھی لے کر گئے تھے پھاڑ ڈالا تھا۔(کتاب العلم، باب : ما يذكر في المناولة، حدیث نمبر: ۶۴) اور یہ پیشگوئی عیسائی علاقوں میں بھی مشہور ہو چکی تھی بوجہ اس کے کہ عرب کے عیسائی قبائل (بنو غسان، بنو حارث وغیرہ) کے رومی سلطنت سے گہرے تعلقات تھے۔پہلی نمایاں فتح ہر قل کو خسرو پر ۶۲۴ء میں ہوئی۔جس پر وہ فارسیوں کے لشکروں کو شکست دیتا ہوا فارس کے اندر گھس گیا اور وہاں جا کر اس نے ان کے آتشکدہ کو تباہ و برباد کر دیا۔۶۱۶ سے ۶۲۴ تک آٹھ سال کا عرصہ اس عظیم الشان پیشگوئی کے اعلان و انتشار کے لئے کافی تھا اور پھر اس کے بعد آخری کامل فتح پر چار پانچ سال اور بھی گذرے تو غیر معمولی حالات میں پیشگوئی کے مطابق اپنی نمایاں کامیابی دیکھ کر ضرور تھا کہ ہر قتل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اچھا خیال رکھتا اور بالکل قرین قیاس ہے کہ اس نے آپ کے متعلق مزید حالات دریافت کرنے کے لئے ابوسفیان کو بلایا ہو۔کیونکہ خود اس پیشگوئی کا ایسے معجزانہ طریق سے پورا ہونا ہی کافی تھا کہ سلیم الطبع دلوں میں جستجو اور تحقیق کی خواہش پیدا ہوتی اور ہر قل کو ہی آپ نے اس زمانہ میں وہ خط لکھا جس کا ذکر ابوسفیان کرتے ہیں اور جس میں یہ انذاری پیشگوئی بھی تھی: اسلِمُ تسلم مسلمان ہو جاؤ تمہاری سلطنت قائم رہے گی ورنہ تم پر تمہارے گناہ کا وبال پڑے گا۔یہ سب باتیں بتلاتی ہیں کہ ہر قل کے اس اہتمام وجستجو کے لئے کافی وجوہات تھیں۔غرض ابو سفیان کا محولہ بالا بیان کیا بلحاظ اصول روایت اور کیا بلحاظ اصول درایت اور خارجی شواہد کے قابل اعتبار ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر قل کے نام خط بھجوانا بھی اسلامی تاریخ میں ایک مشہور واقعہ ہے اور ابوسفیان کی اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا خط ہر قتل کو ان کے ملنے سے پہلے پہنچ چکا تھا۔چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ ان سے واقعات سن