صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 28
صحيح البخاری جلد ا ۲۸ ا - كتاب بدء الوحي جس طرح آج کل ہمارے زمانہ میں مسیح کی آمد ثانی کے متعلق مسیحی علماء نے سابقہ پیشگوئیوں کی بناء پر مختلف حسابات لگا کر ۱۸۹۸ عیسوی اس کے ظہور کی آخری حد مقرر کی ہے۔تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو کتاب : انبیاء کی آسمانی بادشاہت اور اس کی تکمیل مسیح موعود کے ہاتھ سے صفحہ ۷-۱۷ نیز علامہ ڈمبلی کی کتاب موسومہ: The Appointed Time, Page:265 اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی عیسائی علماء نے موعود نبی کے ظہور کی آخری حدو ہی زمانہ معین کیا تھا جس میں آپ پیدا ہوئے۔سلیم فطرت اور حق کے متلاشی عیسائیوں نے انہی پیشگوئیوں کی بناء پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مانا۔قرآن مجید سورۃ بقرہ آیت: ۸۹ میں ان کے اس انتظار کا اقرار آتا ہے اور اسلامی روایات سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہودیوں اور عیسائیوں دونوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل اس بات کا یقین تھا کہ وہ نبی ان دنوں پیدا ہونے والا ہے۔زید بن عمرو کا واقعہ اسلامی تاریخ میں مشہور ہے کہ وہ تلاش حق کے لئے نکلے مکہ سے مدینہ، مدینہ سے خیبر، خیبر سے شام، شام سے جب عراق میں پہنچے تو وہاں ایک عیسائی بزرگ نے حالات معلوم کر کے انہیں حکم دیا کہ اپنے وطن کو واپس جاؤ۔کیونکہ وہ نبی جس کی تلاش میں ہو وہاں سے ظاہر ہونے والا ہے۔(اسد الغابة۔تحت ذكر زيد بن عمرو) ورقہ بن نوفل کا واقعہ بھی ابھی گذر چکا ہے۔تاریخ ابن سعد، مسند احمد اور تاریخ بخاری میں نو جوان صحابی کا واقعہ بسند صیح مذکور ہے کہ وہ چھوٹے تھے تو مدینہ میں ایک یہودی واعظ آیا۔اثنائے وعظ اس نے ایک پیغمبر کے ظہور کی بشارت دی اور بتلایا کہ وہ اب ظاہر ہونے والا ہے۔(طبقات لابن سعد۔ذكر علامات النبوة في رسول الله له قبل ان يوحى اليه) عیسائی بادشاہانِ مصر اور حبشہ کے پاس جو وفد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجے تھے وہ بھی ان سے یہی جواب لائے کہ ہم کو یقین تھا کہ وہ پیدا ہونے والا ہے۔طبقات لابن سعد۔ذكر بعثة رسول الله الا الله الرسل بكتبه الى الملوك۔الجزء الاول) ایک طرف ان قدیم پیشگوئیوں کا موجود ہونا اور دوسری طرف ان مختلف روایتوں کا ایک دوسرے کی تصدیق کرنا بتلاتا ہے کہ فی الواقعہ ان کو اس وقت ایک نبی کے پیدا ہونے کی انتظار تھی۔دانیال علیہ السلام کی پیشگوئی اس بارے میں مشہور ہے اور اس کی بناء پر عیسائیوں نے مختلف زمانہ میں حساب کر کے تاریخیں مقرر کرنے کی کوشش کی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا زمانہ بھی ان تاریخوں میں آتا ہے۔یہ تاریخیں فصل الخطاب حصہ دوم اور The Appointed Time میں ملاحظہ ہوں۔عیسائی تسلیم کرتے ہیں کہ بیت المقدس کا مسلمانوں کے قبضہ میں آنا اسی پیشگوئی کے ماتحت تھا۔گو وہ اب اس کو اور رنگ دیتے ہیں۔ابوسفیان کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر قل نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق عمدہ خیالات کا اظہار کیا۔ابوسفیان جیسے شخص نے اپنے جیسے ہم خیال ساتھیوں کی موجودگی میں ہر قل کے سوالات پر جو جوابات دیئے ہیں۔ان کو سن کر